اسرائیلی وزیراعظم کا وادی اردن پر قبضہ کرنے کا اعلان

اسرائیل: نتن یاہو پھنس گئے،مخلوط حکومت یا تیسری مرتبہ عام انتخابات؟

یروشلم: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے منگل کے روز مغربی کنارے میں واقع وادی اردن پر قبضہ کرنے کے اپنے ارادے ظاہر کردیے۔

اسرائیلی ٹی وی چینلز پر چلنے والی اپنی تقریر میں انہوں نے علاقے کو اسرائیل کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام نے انہیں بھاری مینڈیٹ کے ساتھ انتخابات میں کامیاب کرایا تو وہ وادی اردن اور بحیرہ مردار پر اسرائیل کی حکومت قائم کریں گے۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ قدم وہ فوری طور پر اٹھا سکتے ہیں تاہم اس کے لیے انہیں واضح مینڈیٹ کے ساتھ جتوانا ضروری ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک اسرائیلی تنظیم کے مطابق جس علاقے کی نیتن یاہو بات کررہے ہیں وہاں 65 ہزار فلسطینی آباد ہیں جبکہ 11 ہزار اسرائیلیوں کو بھی وہاں آباد کیا گیا ہے ۔ یہاں کا مرکزی شہر جیریکو ہے اور یہاں 28 دیہات واقع ہیں۔

تقریر کے دوران انہوں نے امریکہ کے ساتھ اپنی دوستی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کے اسرائیل-فلسطین تنازع سے متعلق منصوبے کا انتظار کررہے ہیں جو ان کے مطابق جلد ہی پیش کردیا جائے گا۔

دوسری جانب عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی وزیراعظم کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے امن کی جانب بڑھنے والے تمام راستے بند ہوجائیں گے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر نیتن یاہو نے ایسا کوئی قدم اٹھایا تو دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تمام امن معاہدے ختم ہوجائیں گے۔

ماہرین نے اسے نیتن یاہو کی جانب سے کچھ عرصے بعد ہونے والے انتخابات جیتنے کے لیے ایک حکمت عملی قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز