بلدیو کمار پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگینڈا کرنے لگا

پشاور: بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے والا سابق رکن خیبر پختونخوا اسمبلی بلدیو کمار پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگینڈا کرنے لگا۔

خیبر پختونخوا کے ضلع سوات سے تعلق رکھنے والا بلدیو کمار اقلیتی رکن اسمبلی سردار سورن سنگھ کے قتل کے الزام میں جیل بھی کاٹ چکا ہے.

2016 میں پاکستان تحریک انصاف  (پی ٹی آئی) کے اقلیتی رکن اسمبلی سردار سورن سنگھ  کے قتل کے الزام میں بلدیو کمار کو پانچ ساتھیوں سمیت گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے پولیس کے سامنے اقرار جرم کیا بعد میں عدالت کے سامنے مکر گیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے اپریل 2018 میں جرم ثابت نہ ہونے پر اسے دیگر ساتھیوں سمیت بری کر دیا تھا۔

حیران کن طور پر صوبائی حکومت نے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی جس کے بعد اس نے 28 مئی 2018 کو ایک دن کے لیے عہدے کا حلف اٹھا یا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بلدیو کمار کے معاملے پر کے پی حکومت کا رد عمل

پاکستان تحریک انصاف نے 2013  کے  انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے لیے اقلیتی نشست پر ترجیحی فہرست الیکشن کمیشن کو فراہم کی  تھی جس میں بلدیو کمار کا نام دوسرے نمبر پر رکھا گیا ۔

سردار سورن سنگھ کے قتل کے بعد ترجیحی فہرست میں دوسرا نمبر ہونے کے باعث الیکشن کمیشن نے بلدیو کمار کا بطور اقلیتی رکن اسمبلی نوٹفکیشن جاری کیا تاہم خیبر پختونخوا اسمبلی ارکان نے انہیں حلف لینے نہیں دیا۔

بلدیو کمار 2016 تک  حکمران جماعت پی ٹی آئی کا سرگرم رکن رہا ۔

گزشتہ ماہ بیوی بچوں کو واپس لانے کے بہانے بھارت جانے کے بعد  بلدیو کمار نے یہ کہہ کر سیاسی پناہ  کی  درخواست دی ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل نہیں۔

ان دنوں بلدیو کمار بیوی بچوں سمیت بھارت میں ہے اور بھارتی حکومت نے ان کی سیاسی پناہ کی درخواست پر تاحال فیصلہ نہیں کیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز