‘جس کو وزیراعلی پنجاب پسند  نہیں وہ تحریک انصاف چھوڑ دے‘

لاہور: وزیر اعلی پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل نے کہاہے کہ جس کو وزیراعلی پنجاب پسند  نہیں وہ تحریک انصاف چھوڑ دے، عثمان بزدار کو وزیراعظم نے عہدہ دیا ہے اور وہ اس پر قائم رہینگے۔ 

شہباز گل نے کہا کہ  اداروں کا کلچر تبدیل کرنے میں وقت لگتا ہے ، پولیس عوام کی خدمت کیلئے ہے، تشدداور ٹارچر سیل بنانے کیلئے نہیں ہے۔

لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں شہباز گل نے محکمہ پولیس میں مختلف اصلاحات کے اعلان کے ساتھ ساتھ سابق حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بھی بنا ڈالا۔

پنجاب کابینہ کے اجلاس کے بعد ترجمان وزیراعلی  پنجاب ڈاکٹر شہباز گل نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ہر تھانے میں ایک پی آر او تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو عوام کے مسائل سنے گااوراس کا حکومت سے بھی براہ راست رابطہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اسٹیشنز کے قریب شکایات باکس نصب کریں گے جن کی چابی آر پی او اور ڈی پی او کے پاس ہو گی، ہر ڈی پی او اور ڈی ایس پی اپنے حلقے میں ٹارچر سیل نہ ہونے سے متعلق حلف نامہ جمع کرانے کا پابند ہوگا۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ پولیس کا کام ٹارچر سیل قائم کرنا نہیں ہے، وزیراعلی نے کسی بھی واقعہ کے لیے بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔ بورڈ میں مختلف شعبوں کے لوگ شامل ہوں گے۔

ترجمان وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ سابق حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن نے خود کرایا اور پھر ذمہ داری پولیس پر ڈال دی۔

مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری  نے شہباز گل کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں کہا کہ تحریک انصاف اقتدار سے قبل تحریک فساد اور اقتدار کے بعد تحریک تشدد بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز گل کی جانب سے پولیس کو ٹھیک کرنے کی بجائے عوام کو ٹھیک ہونے کا مشورہ انتہائی بے شرمی کی علامت ہے۔ تھانوں میں کیمروں پر پابندی لگانے کا مطلب پولیس کو مادر پدر آزادی دینا ہے۔

عظمی بخاری نے کہا کہ اگر عمران خان سسٹم کو ابتر کرنے آئے ہیں تو ہم اس کی ہر گز اجازت نہیں دینگے۔ پنجاب کے عوام کو ان جلادوں اور سفاک قاتلوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ پنجاب پولیس تحریک انصاف کا ذیلی ونگ بن چکی ہے۔

مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی نے کہا کہ پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والوں نے پنجاب پولیس کو بھی اپنے گھر کی لونڈی بنادیا ہے۔ عثمان بزدار ڈمی وزیر اعلیٰ ہے ،صوبے کا چیف ایگزیکٹیو کوئی اور ہے۔

عظمی بخاری نے کہا کہ پنجاب پولیس کے ذمے صرف دو ہی کام ہیں ،ایک بے گناہ شہریوں کا قتل اوردوسرااپوزیشن کےخلاف جھوٹے مقدمات درج کرنا، حکومت اداروں کو اپنے ذاتی مفادات کےلئے کھل کر استعمال کررہی ہے۔

مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی  نےمطالبہ کہ پنجاب پولیس اصلاحات کا مسودہ اسمبلی میں لائے بغیر تسلیم نہیں کرینگے، پولیس اصلاحات پر اسمبلی میں بحث کرائی جائے پھر مسودہ منظور کیا جائے، پنجاب اسمبلی پہلے ہی بے توقیر ہو چکی ہے اس کو مزید فرسودہ نہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز