جی آئی ڈی سی آرڈیننس سے متعلق حکومتی درخواست سماعت کیلئے مقرر

کاروباری طبقے کو سہولتیں دی جائیں نہ کہ مشکلات پیدا کی جائیں۔ سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے گیس انفراسٹرکچرڈویلپمنٹ سیس(جی آئی ڈی سی) آرڈیننس سے متعلق حکومت کی درخواست سماعت کےلیے مقررکردی۔

عدالتی بینچ 19 ستمبرکو درخواست کی سماعت کریگا۔اٹارنی جنرل نے جی آئی ڈی سی سے متعلق مقدمات فوری سماعت کےلیے مقرر کرنے کی استدعا کی تھی۔

صنعت کاروں کو اربوں روپے کے ٹیکس معافی کا معاملے پر سپریم کورٹ میں حکومتی درخواست کی سماعت 19 ستمبرکوہوگی۔

اٹارنی جنرل کی جانب سے گیس انفراسٹرکچرڈویلپمنٹ سیس سے متعلق مقدمے کی جلد سماعت کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکی گئی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس سے متعلق مقدمات 2017 سے زیرالتوا ہیں ۔

مقدمات کے زیر التوا ہونے کی وجہ سے حکومت کو ریونیو کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ جنوری 2012 سے دسمبر 2018 تک جی آئی ڈی سی کی مد میں 417 ارب روپے تھے جسے وزیر اعظم نے آرڈیننس کے ذریعے معاف کیا تھا۔

حکومت نےمختلف کمپنیوں کو جی آئی ڈی سی کی معافی کے لئے صدارتی آرڈیننس بھی جاری کیا تھا جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔

وزیراعظم نے گیس انفراسٹرکچرڈویلپمنٹ سیس سے متعلق آرڈیننس واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ ۔وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے تنازعے کے باعث شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے آرڈیننس واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

سرکاری اعلامیے میں کہا گیا تھاکہ وزیراعظم قوم کو بتانا چاہتے ہیں کہ عدالت جانے سے فیصلہ خلاف آنے کا بھی خطرہ ہے،عدالت جانے سے حکومت کو پوری رقم واپس ملنے یا پوری رقم کھو جانے کا بھی امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جی آئی ڈی سی کے معاملے پر حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز