سانحہ بلدیہ : سات برس بیت گئے،متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر

سانحہ بلدیہ کے 6 برس بعد بھی متاثرین انصاف کے منتظر | humnews.pk

کراچی میں سات سال پہلے بلدیہ کی فیکٹری میں دانستہ آگ لگا کر دوسو اٹھاون افراد کو موت کی نیند سلادیا گیا تھا،اس المناک واقعہ کو سات برس بیت گئے لیکن متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

گیارہ ستمبر 2012 کو سفاک قاتلوں نے گھناؤنا کھیل کھیلا۔ بلدیہ  کے علاقے میں  قائم فیکٹری میں کام کرنے والے جیتے جاگتے انسانوں کو شعلوں کی نذر کردیا گیا تھا۔

علی انٹرپرائیزز میں لگنے والی آگ کے باعث زیادہ اموات ہنگامی اخراج  کے لئے راستہ نہ  ہونے اور فیکٹری کے عقب میں واقع کھڑکیوں میں لوہے کی سلاخیں ہونے کی وجہ سے ہوئیں۔

ابتدائی طور پر اسےخوفناک آگ کو حادثہ قرار دیا گیا لیکن تحقیقاتی ٹیموں نے مختلف زاویوں سے کھوج لگایا توفیکٹری میں جان بوجھ کر آگ لگائے جانے کا انکشاف ہوا۔

متاثرین کو انصاف دلانے میں حکومت اور قانون نافذکرنے والے اداروں کی سنجیدگی کا حال یہ تھا کہ آگ لگائے جانے کا مقدمہ واقعہ کے چار سال بعد درج ہوا ۔

اس وقت کے وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ نے کمیشن قائم کیا  تو دوسری جانب سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں ایم کیو ایم کےگرفتار کارکنوں نے اعتراف کیا کہ ” پارٹی کے ایک عہدیدار” نے فیکٹری کے مالک سے بیس کروڑ روپے بھتے کا مطالبہ کیا تھا۔

فیکٹری مالکان کے انکار پر سیکٹر انچارج اور اس کے ساتھیوں نے فیکٹری کو کیمیائی مادہ چھڑک کر آگ لگادی ۔

جے آئی ٹی میں گرفتار کارکنوں نے پی ایس پی کے رہنما انیس قائم خانی، اس وقت ایم کیوایم کے صوبائی وزیر رؤف صدیقی کا بھی نام لیا۔ سانحہ بلدیہ کیس میں حماد صدیقی، رحمان بھولا اور رئیس مما کو مفرور قرار دیا گیا۔

گزشتہ برس قانون نافذ کرنے والے ادارے مفرور ملزم حماد صدیقی کو بیرون ملک سے حراست میں لے کر پاکستان منقتل کر چکے ہیں ۔ مارچ 2018 میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مرکزی ملزم کے قریبی ساتھی رئیس مما کو بھی ملائیشیا سے گرفتار کرکے کراچی منتقل کیا گیاہے۔

یہ بھی پڑھیے: سانحہ بلدیہ: ملزم نے کیمیکل پھینکا، آگ بھڑکی تو مسکراتا رہا، عینی شاہد

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز