ماڈل کورٹس: ایک دن میں 350 سے زائد مقدمات کا فیصلہ

برطانوی عدالت نے حیدرآباد دکن فنڈز کیس کا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد: پاکستان کے ماڈل کورٹس میں انصاف کی تیزترین فراہمی کا سلسلہ جاری ہے اور ایک دن میں 350 سے زائد مقدمات کا فیصلہ سنایا گیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل مانیٹرنگ سیل سہیل ناصر کی جانب جاری ایک بیانیے میں بتایا گیا ہے کہ آج مورخہ 11 ستمبر 2019 کو ملک بھر میں قائم 373 ماڈل کورٹس نے مجموعی طور پر 350 سے زائد گواہان کے بیانات قلمبند کیے۔

ملک بھر میں قائم 167 کورٹس نے پنجاب میں قتل کے 9 اور منشیات کے 35، اسلام آباد میں منشیات کا 1، سندھ میں قتل کے7 اور منشیات کے8، خیبر پختونخواہ میں قتل کے 4 اور منشیات کے9 جب کہ بلوچستان میں قتل کے 1 مقدمے کا فیصلہ ہوا۔

ڈائریکٹر جنرل مانیٹرنگ سیل کے مطابق ایک مجرم کو سزائے موت، 5 کو عمر قید، 9 کو کل 12 سال 6 ماہ اور 15 دن قید جب کہ 4454800 روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

پاکستان بھر میں قائم 96 سول ایپلٹ ماڈل کورٹس نے آج مجموعی طور پر 192 دیوانی، خاندانی کرائے اور نگرانی کی درخواستوں پر فیصلے سنائے۔

ملک میں قائم کی گئی 110 ماڈل مجسٹریٹس عدالتوں نے بھی 85 مقدمات کے فیصلے کیے اور مجموعی طور پر 16مجرمان کو 16سال 1 ماہ قید اور 542339 روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز