’امریکہ طالبان مذاکرات کی منسوخی سے افغانستان میں خانہ جنگی میں اضافہ ہوگا‘

اسلام آباد: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور طالبان میں مذاکرات کی منسوخی سے افغانستان میں خانہ جنگی میں مزید اضافہ ہوگا۔

یم نیوز کے پروگرام پروگرام ویوزمیکرز میں میزبان زریاب عارف سے گفتگو کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ امریکہ نے مذاکرات کے خاتمے کا فیصلہ کیا ہے جس پر طالبان سمجھتے ہیں کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے۔ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ ہم دنیا کو جنگ جیتنے کا تاثر دیتے ہیں۔

سینیئر تجزیہ کار عامر ضیاء کا کہنا تھا کہ آنے والے چند ہفتوں میں موسم سرما کا آغاز ہوگا تو لڑائی کی شدت میں کمی آئے گی اور پھر اس میں شدت آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں کے بعد افغانستان میں امن کا امکان پیدا ہوا لیکن اب یہ بھی ختم ہوگیا ہے۔

سینیئر تجزیہ کار ناصر بیگ چغتائی کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ ساتھ وائٹ ہاوس میں بھی خانہ جنگی جاری ہے جہاں رائے بری طرح منقسم ہے۔ جان بولٹن نے مذاکرات کی مخالفت کی تھی اور اب انہیں نکال دیا گیا ہے۔

تجزیہ کار امتیازگل کا کہنا تھا کہ خانہ جنگی کا خطرہ موجود ہے اوراس میں افغانستان کے لوگوں کا نقصان ہورہا ہے، وہ لوگ بہت عرصے سے مشکلات کاشکار ہیں اور ان میں مستقبل میں مزید اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے۔

تجزیہ کار رضا رومی نے کہا کہ خانہ جنگی جاری ہے کہ کبھی سیز فائر ہوا ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن کی امید کو دھچکہ لگا ہے اور اس کی بڑی وجہ امریکہ میں تقسیم ہے۔

انسانی حقوق کونسل کے بیان سے متعلق سوال کے جواب میں امتیاز گل نے کہا کہ سفارتی سطح پر دباو میں اضافہ ہوگا لیکن اس کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

امجدشعیب نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم کررہا ہے اور اس حوالے سے دنیا میں کہیں نہ کہیں آوازیں اٹھ رہی ہیں جس سے بھارت پر دباؤ آرہا ہے لیکن یہ نتیجہ خیز نہیں ہے۔

رضا رومی کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ عالمی سطح پر اٹھا ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بات ہونے سے بھارت کا تاثر خراب ہوا ہے۔ بھارت کے خلاف اس کے حمایتیوں کی آواز اٹھنے سے ہی بات بنے گی لیکن وہ لوگ بول نہیں رہے ہیں۔

ناصربیگ چغتائی کا کہنا تھا کہ بھارت پر دباو اقوام متحدہ کی وجہ سے ہی آسکتا ہے لیکن وہ اپنا کردار ادا نہیں کررہا ہے۔

عامر ضیاء کا کہنا تھا کہ بھارت کو بدنامی سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ عالمی دباؤ کا سامنا کرنا بھی طاقت کا مظہر ہے۔ عالمی برداری کے کچھ حصے نے باقی سب کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کا کہا ہے جو کہ ایک چھوٹی سی علامتی کامیابی ہے۔

ٹی ٹی پی سربراہ کو عالمی دہشتگرد قرار دینے سے متعلق سوال کے جواب میں امتیاز گل نے کہا کہ ٹی ٹی پی کی قیادت کو افغانستان میں امریکہ نے ہی نشانہ ہے اور امریکہ اب بھی پاکستان کی خوشی کے لیے یہ کارروائیاں جاری رکھے گا۔

امجد شعیب کا کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان میں مرکزی قیادت کے علاوہ کالعدم تحریک کے خلاف کارروائی نہیں کرتا۔ امریکہ کارروائی بھی کرتا ہے لیکن اس کے باوجود دہشتگرد وہاں سرگرم رہتے ہیں۔

ناصر بیگ چغتائی کا کہنا تھا کہ امریکہ ظاہری طور پر کارروائی ضرور کرے گا لیکن اثاثوں کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ان دہشتگردوں کو افغان انتظامیہ کی مدد بھی حاصل رہتی ہے۔

عامر ضیاء کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پاکستان کا کارروائی کے حوالے سے مطالبہ ہوتا ہے لیکن اسے زیادہ توجہ سے نہیں سنا جاتا ہے۔ بھارت اور امریکہ بھی اپنے مفادات کی حفاظت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔

رضا رومی نے کہا کہ ماضی میں امریکہ نے پاکستان کے مطالبے پر کئی دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں لیکن وہاں یہ معاملہ پیچیدہ بھی ہے کہ کچھ دہشتگردوں کو افغان انتظامیہ کے اندر سے تعاون مل رہا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: طالبان کے ساتھ مذاکرات کا باب بند ہو چکا، ٹرمپ

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز