چیئرمین نیب کی تقرری کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

بیورو کریسی کو نیب سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے، چیئرمین نیب

فوٹو: فائل

لاہور ہائیکورٹ نے چئیرمین قومی احتساب بیورو (نیب) جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے تقرر کے خلاف درخواست پروفاقی حکومت سے 20 ستمبر کو جواب طلب کر لیا ہے۔ 

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نےچیئرمین نیب کی تقرری کے خلاف معروف  قانون دان اے کے ڈوگر کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ چئیر مین نیب کا تقرر وزیراعظم اور کابینہ کی ہدایت ملنے کے بعد صدر پاکستان کر سکتا ہے۔ صدر پاکستان نے چئیرمین نیب کے تقرر وزیراعظم اوروفاقی کابینہ کی ہدایت کے بغیر ازخود کی اور بعد میں مشاورت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 48 (1) مطابق صدر پاکستان وزیراعظم اور کابینہ کی ہدایت کے بغیر کوئی بھی کام نہیں کر سکتے۔ صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈائس کے بغیر چیئرمین نیب کی تقرری کے حکمنامے پر دستخط کئے۔

عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ نیب آرڈیننس 1999 کی شق 6 بی آئین کے آرٹیکل 48 سے منافی ہے اس کو غیر قانونی قرار دیا جائے،عدالت چئیرمین نیب کا تقرر کالعدم قرار دے کر عہدے سے ہٹانے حکم دے۔

عدالت نے درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے مزید کارروائی 20 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

یہ بھی پڑھیے: نیب نیازی گٹھ جوڑ نہیں ،نیب پاکستان گٹھ جوڑ ہے،چیئرمین نیب

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز