وزیراعظم نے تعمیراتی سیکٹر کو انڈسٹری کا درجہ دینے کی اصولی منظوری دیدی

فوٹو: فائل


اسلام آباد:وزیراعظم نےعمران خان نے تعمیراتی سیکٹر کو انڈسٹری کا درجہ دینے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ 

وزیراعظم کی طرف سے یہ منظوری  تعمیرات کے شعبے میں کاروبار کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے حوالے سے اقدامات پر اجلاس کے دوران دی گئی ۔

چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر نے وزیرِ اعظم کو تعمیرات کے شعبے میں حائل مشکلات اور انکے حل کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی ۔

انہوں نے کہا کہ  تعمیرات کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پالیسی، قوانین اور قواعد کو آسان بنایا جا رہا ہے۔ تعمیرات سے متعلقہ معلومات کی آن لائن فراہمی کے لئے ویب پورٹل کا قیام عمل میں لایا جا رہاہے۔

انور علی حیدر نے کہا کہ تعمیرات کے لئے مختلف محکموں کی جانب سے مطلوبہ اجازت ناموں کے حصول کے نظام کو سہل بنایا جا رہا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ اجازت ناموں اور این او سی کی جگہ رائج قوانین سے مطابقت (Compliance) کے نظام کو رائج کیا جائے ۔

انہوں نے بتایا کہ شہری علاقوں میں زوننگ اور تعمیرات کے ذیلی قوانین پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ جہاں پورے نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے وہاں تمام مراحل کو سہل اور تیز کیا جا سکے۔

انور علی حیدر نے کہا کہ  متعلقہ اداروں میں معلومات کی ترسیل کو آسان بنایا جا ئے۔ چیئرمین ہاؤسنگ اتھارٹی نے بتایا کہ نئے نظام میں شخصی رابطوں اور شخصی موجودگی کی شرائط کو حتی المقدور کم سے کم کرنے کے ساتھ ساتھ صوابدیدی اختیارات ختم کرنے پر خصوسی توجہ دی جا رہی ہے۔

چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی نے اس ضمن میں شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم روڈ میپ بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں صوبوں کے مختلف اداروں کے درمیان اراضی سے متعلقہ معاملات میں کوراڈینیشن، معلومات کی فوری ترسیل اور متعلقہ محکمے کی جانب سے مطلوبہ کاروائی کو ایک مقررہ مدت میں سر انجام دینے کو یقینی بنانے کے لئے آن لائن سلوشن فراہم کیا جا رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ اراضی سے متعلقہ تصفیوں کے جلد حل کے لئے سہل نظام رائج کرنے پر خصوسی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں بڑے شہروں اور سرکاری اراضی کا تمام ریکارڈ ڈیجیٹل کیا جائے گا۔

انور علی حیدر نے کہا کہ لانگ ٹرم پلان میں ملک بھر میں واقع اراضی کا ریکارڈ ڈیجیٹل کیا جائے گا۔

چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی نے بتایا کہ ماضی میں اراضی ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیے جانے کی کوشش کی گئی جس کو بڑی حد تک مکمل بھی کیا گیا تاہم ڈیجیٹلائزیشن کے عمل سے نہ صرف تمام ریکارڈ آن لائن میسر آئے گا بلکہ اس عمل سے اراضی سے متعلقہ بیشتر مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔

چیئرمین سی ڈی اے کی جانب سے وزیرِ اعظم کو اسلام آباد میں آٹو میٹڈ کلائنٹ سروس سنٹرز (Automated Client Service Centre) شروع کیے جانے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔

اسلام آباد ترقیاتی ادارے کے چیئرمین نے کہا کہ سی ڈی اے سے متعلقہ معاملات میں اس نظام کو متعارف کرانے سے جہاں شہریوں آسانیاں میسر آئیں گی وہاں بدعنوانی، رشوت و دیگر مسائل پر قابوپانے میں بھی مدد ملے گی۔

اجلاس میں رجسٹر مال گزاری اور مساوی کی جیو ریفرنسنگ کرنے اور سیٹلائٹ امیجری کے ذریعے اراضی ریکارڈ مرتب کرنے کے حوالے سے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری کے لئے آسانیاں پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ اسے باقاعدہ صنعت کا درجہ دیا جائے تاکہ شعبے سے منسلک افراد کے لئے آسانیاں پیدا کی جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت تعمیرات سے متعلقہ قوانین کو آسان بنانے اور غیر ضروری اجازت ناموں اور این او سیز کی شرائط کو کم سے کم کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ بڑے شہروں میں کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کے حوالے سے حکومت پہلے ہی سول ایویشن و دیگر متعلقہ اداروں سے اجازت نامہ حاصل کرنے کی شرط کو ختم کر چکی ہے تاکہ مخصوص علاقوں کے علاقہ تمام دیگر علاقوں میں بغیر کسی رکاوٹ کثیر المنزلہ رہائشی اور کاروباری عمارات تعمیر کی جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ لینڈ کورٹس کے قیام سے اراضی سے متعلقہ مسائل کو جلد حل کرنے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔

اجلاس میں معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سید زبیر گیلانی، سیکرٹری ہاؤسنگ ڈاکٹر عمران زیب، چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے: کشمیریوں سے اظہار یکجہتی، وزیراعظم کل مظفرآباد میں جلسہ کریں گے


متعلقہ خبریں