کشمیریوں کی ممکنہ نسل کشی برداشت نہیں کریں گے، صدر پاکستان

اسلام آباد: صدر پاکستان ڈاکٹرعارف علوی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اقوام عالم کو باور کرایا کہ ہم کشمیریوں کی ممکنہ نسل کشی برادشت نہیں کریں گے اور دنیا ہماری امن خواہش کو کمزوری نہ سمجھے۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان، صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور تینوں افواج کے سربراہان شریک ہوئے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر بھارتی اقدام کے خلاف کامیاب سفارت کاری کی اور 50 سال میں پہلی بار اقوام متحدہ میں معاملے کو اٹھایا گیا۔

موجودہ حکومت کا پارلیمانی سال مکمل ہونے پر صدر علوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارتی اقدام کے جواب میں پاکستان نے سفارت تعلقات میں کمی اور تجارت بند کرنے کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت جابرانہ ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کی آواز نہیں دبا سکتا، یہ عالمی مسئلہ ہے جس کے لیے عالمی برادری کو کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ یہ عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں اور چین سمیت دیگر ممالک کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے ہمارے موقف کی تائید کی۔

صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ 90 لاکھ کشمیریوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے، اقوام متحدہ کو چاہیے کہ اپنے مندوب بھیج کر وہاں کے حالات معلوم کرے کیوں کہ بھارتی افواج درندانہ اور سفکانہ اقدامات سے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔

کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں اقوام عالم کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ اگر دنیا نے ممکنہ نسل کشی کو نہ روکا گیا تو عالمی امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

اقوام عالم کے ساتھ پاکستان کے تعلقات

اپنے خطاب میں بھارت کیساتھ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر پاکستان نے کہا کہ ہمارے ہمسایہ میں انتہا پسند سوچ کا راج ہے، مہاتما گاندھی اور نہرو کا ہندوستان تیزی سے بدل رہا ہے اور اس نے دو قومی نظریے کو مزید واضح کردیا ہے۔

عارف علوی کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول بھارتی خلاف ورزیاں بھی علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں۔

بھارت ہمیشہ پاکستان میں دراندازی کا مرتکب ہوتا رہا ہے جس کا ایک ثبوت کمانڈر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہے۔

صدر پاکستان نے ایوان کو بتایا کہ پاک چین معاشی تعلقات سے ملک میں ترقی کی نئی راہیں کھل رہی ہیں اور ہم چاہتے ہیں اپنے دوست ملک کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک سے غربت کا قلع قمع کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن پاکستان کی ترقی میں اہمیت کا حامل ہے۔ آج دنیا کو ادراک ہوگیا ہے جنگ کا حل سیاسی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمسایہ ملک میں امن قائم ہو۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب، ایران، ترکی، یورپی یونین اور افریقی ممالک کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات بہتر سمت میں گامزن ہیں۔

ریاست مدینہ کے لیے عوام کا تعاون درکار

صدر پاکستان نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی، معاشی اور معاشرتی ترقی کا راز ریاست مدینہ میں پوشیدہ ہے۔  انسانی حقوق کا پہلا چارٹر دینے والی ریاست مدینہ تھی۔

مسجد صرف نماز پڑھنے کی جگہ نہیں بلکہ معاشی اور معاشرتی اصلاح کے لیے بھی اسے استعمال ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی معیشت پر شدید دباو کا سبب بن رہی ہے۔

علمائے کرام کو چاہیے کہ سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر آبادی کے پھیلاو کےمنفی اثرات سے عوام کو آگاہ کریں۔ علمائے کرام کو چاہیے کہ ممبر کو معاشرتی اصلاح کے لیے بھی استعمال کریں۔

حکومت آبادی میں اضافے کی جانب توجہ دے اور اس کے تدارک کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے۔

ملک کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کا مستقبل جمہوریت کے ساتھ منسلک ہے۔ مضبوط اور آزاد ادارے ہی جمہوریت کے ضامن ہیں۔

فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام جمہوریت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ان علاقوں کو بھی ملک کے دیگر شہروں کے برابر ترقی دے۔ حکومت قبائل اعوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

گزشتہ ادوار میں ذاتی مفادات کی خاطر ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا گیا جن کا خمیازہ آج بھگت رہے ہیں اور مشکل بجٹ پیش کرنا پڑا ہے۔ ایف بی آر میں اصلاحات لائی جائیں اور ٹیکس دہندگان کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔

پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ ملک میں کاروبار کے لیے آسان پالیسیوں کے لیے کام جاری ہے اور کئی درجے بہتری آئی ہے۔

ملکی ترقی میں اداروں کا کردار

صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک میں ترقی کے لیے اداروں کا کردار اہم ہے۔ بد عنوانی کسی بھی ملک کین جڑیں کھوکھلی کر دیتی جو بد قسمتی سے پاکستان میں اپنی جگہ بنا چکی ہے۔ حکومت نے اداروں کی اصلاحات پر کام مزید تیز کیا جائے۔

تعلیم اور انفاار میشن ٹیکنالوجی

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر پاکستان نے کہا کہ کوئی بھی ملک تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا، پاکستان کا 60 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں فنی تربیت پر توجہ دی جارہی ہے تاکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں دیگر اقوام کے ساتھ کھڑے ہوسکیں۔

حکومت آن لائن رقوم کی ادائیگی آسان بنانے میں بھی اپنا کردار ادا کرے تاکہ بیرون ملک سے ذر کی ترسیل آسان ہوسکے۔ معیشت کی ترقی کے لیے آئی ٹی میں ترقی ضروری ہے تاکہ چوتھے معاشی انقلاب میں زندہ رہ سکیں۔

کامیاب نوجوان کے پروگرام پر عمل کرتے ہوئے تربیتی پرگرواموں پر کام کیا جارہا ہے اور اس حوالے سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بھی مدد لی جارہی ہے۔

بنیادی انسانی حقوق

ڈاکٹر عارف علوی کہا کہ نے پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا ہے جہاں تعلیم، انصاف، روزگا اور دیگر حقوق حاصل ہوں۔ سستے انصاف کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے لیے متعدد قوانین بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور پارلیمنٹ بھی قوانین پاس کرانے میں تعاون کرے۔

خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے احساس پروگرام میں انہیں زیاد اہمیت دی جارہی ہے۔ ہمیں خواتین کو باوقار بنانا ہوگا تاکہ معاشرے کو مثالی بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

خواتین کے وارثتی حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنانا ہوگا تاکہ ان کے حقوق صلب نہ ہوں۔ حکومت کے صحت انصاف پروگرام سے ڈیڑھ کروڑ عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

پاکستان ایٹمی ملک

صدر پاکستان نے کہا کہ دنیا کی نظریں اس خطے پر ہیں۔ پاکستان ایٹمی ہتھیار رکھنے والا دنیا کو ساتواں اور پہلا اسلامی ملک ہے۔ ہمارے ایٹمی اثاثے مخالفین کو جارحیت کے لیے سر نہیں اٹھانے دیتے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی سے ہماری افواج پوری دنیا پر دھاک بیٹھا چکی ہے۔ ماضی میں غلط فیصلوں کی وجہ سے ہم دہشت گردی کے گرداب میں پھنس گئے۔ مستقبل میں ہمیں چاہیے کہ تمام تر فیصلے ملکی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے کریں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز