کراچی میں آئین کے آرٹیکل 149کے نفاذ بارے قانون دانوں کی رائے

وزارت قانون نے جج کو واٹس ایپ پیغام نہیں بھیجا، فروغ نسیم

فوٹو: ہم نیوز

کراچی:ملک کےسب سےبڑے شہرکراچی میں کچرا، سیوریج ، گندگی اورمعاشی معاملات ٹھیک کرنےکیلئےآئےروزنئی حکمت عملی سامنےآرہی ہے،اسٹریٹیجک کمیٹی کےسربراہ بیرسٹرفروغ نسیم کےاس بیان پرکہ وفاقی حکومت آئین میں رہتےہوئےکراچی کا کنٹرول سنبھال سکتی ہے،نے نئی بحث چھیڑدی ہے۔

شہر قائد میں ایمرجنسی اورگورنرراج کا آپشن زیربحث ہے، کراچی کے قانون دانوں نے  اس بارےمیں مختلف آراء کا اظہار کیاہے۔

کراچی کےمسائل پراسٹکریٹجک کمیٹی کےسربراہ اوروفاقی وزیرقانون بیرسٹر فروغ نسیم کےاس بیان پرکہ آئین کےآرٹیکل 149 اے کی شق 4 کےتحت وفاق صوبائی حکومت کومعاملات درست کرنےمیں ہدایات دے سکتی ہے ‘کی وجہ سے  نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

اس ضمن میں سینیئروکیل بیرسٹرعابد زبیری  نے کہاہے کہ وفاق کی ہدایات پرعمل درآمد نہ ہونےپردوآپشنزباقی رہ جاتےہیں ،ایمرجنسی کا نفاذ یا پھرسپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جائے۔

سندھ ہائیکورٹ بارایسوسی ایشن کےصدرمحمد عاقل نے کہاہے کہ  کہ آئین میں یہ اختیاروفاق کےپاس موجود ہے،میرے خیال میں شہرکےمشکل حالات کودرست کرنےکیلئےایسا اقدام درست ہے۔

کراچی میں رہنےوالےکہتےہیں نظام کوئی بھی ہو انھیں شہرکی حالت بہترہونےکےساتھ بلدیاتی مسائل سےچھٹکاراچاہئیے۔

وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کراچی پہ وفاق کے کنٹرول کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان سے رجوع کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہر قائد کو بہتر کرنے کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے اور اب کراچی کے حوالے سے مداخلت ضروری ہوگئی ہے۔

نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر قانون نے سندھ کی حکمراں جماعت پاکستان پیپلزپارٹی پر الزام عائد کیا کہ اس نے کراچی سمیت پورے سندھ کو تباہ و برباد کردیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ آئین کی شق 149 (4) کے تحت وفاق کی جانب سے کراچی کو کنٹرول کرنے کے لیے سندھ حکومت سے درخواست کی جائے گی لیکن اگر صوبائی حکومت نہ مانی توپھر سپر یم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر کے بیان پر حکومت سندھ کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ صوبائی وزیربلدیات ناصر حسین شاہ نے ہم نیوز سے اس سلسلے میں بات یچت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں پی پی پی کی حکومت پاکستان تحریک انصاف اور مخالفین کو ہضم نہیں ہو رہی ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ میں آئین کی شق 149 کا نفاذ وفاقی حکومت کی خواہش ہوسکتی ہے لیکن اسے حقیقت نہیں بننے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے خلاف تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔

حکومت سندھ کے ترجمان بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بھی اسی ضمن میں کہا کہ آئین کی شق 149 کے تحت وفاق صرف صوبائی حکومت کو ہدایات دے سکتا ہے۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے واضح کیا کہ ایک مسودہ قانون تیا ر کر رہے ہیں جو ہفتہ کو وزیراعظم عمران خان کے سامنے پیش کریں گے۔

اس ضمن میں ان کا کہنا تھا کہ تیار کیے جانے والے مسودہ قانون کے تحت آئین کی شق 149 (4) کے تحت سندھ حکومت سے درخو است کی جائے گی کہ شہر کے حالات خراب ہیں اور ہم اس کا کنٹرول چا ہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تیار کیا جانے والا مسودہ قانون وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت سندھ اس کی منظوری نہیں دیتی ہے تو پھر عدالت عظمیٰ سے رجوع کریں گے۔

واضح رہے گزشتہ روز وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا تھا کہ کراچی کے معاملات کنٹرول کرنے کے لئے آئین کے آرٹیکل 149کا نفاذ کیا جاسکتا ہے،تاہم آج انہوں نے اپنا یہ بیان واپس لے لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی:حکومت سندھ کے لیے خطرے کی گھنٹی؟وفاق کا سپریم کورٹ جانے کا عندیہ

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز