ملکی دولت لوٹنے والوں سے رقم واپس نکلوانا قوم کی آواز ہے،وزیراعظم

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی، وزیراعظم کل مظفرآباد میں جلسہ کریں گے

فائل فوٹو

اسلام آباد: وزیرِ اعظم  عمران خان نے کہاہے  کہ  عوام الناس کی خون پسینے کی کمائی اور ملکی دولت لوٹنے والوں سے  رقم واپس نکلوانا قوم کی آواز ہے اور حکومت اس مشن میں پرعزم ہے۔

انہوں نے یہ بات قانونی اصلاحات کے حوالے سے  اجلاس  کی صدارت کرتے ہوئےکہی۔

وزیرِ قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے معاشرے کے کمزور طبقوں خصوصاً عورتوں، بچوں اور غریب و نادار افراد کے حقوق کے تحفظ اور ان کو ریاست کی جانب سے قانونی معاونت فراہم کرنے بارے بریفنگ دی ۔

فروغ نسیم نے عوام الناس کی خون پسینے کی کمائی اور ملکی دولت چرانے والے وائٹ کالر جرائم میں ملوث افراد کو جیلوں میں مراعات دینے کی روش کے خاتمے، مختلف جرائم خصوصاً بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی میں ریاست کی معاونت کرنے والے افراد کی حوصلہ افزائی (وہسل بلوئر)، مقدمات کے جلد نمٹانے جانے اور عوامی مفاد کے دیگرمعاملات کے حوالے سے کی جانے والی قانون سازی پر اب تک کی پیش رفت سے وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا۔

وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو انصاف کی فراہمی پی ٹی آئی حکومت کے منشور کا سب سے اہم جزو ہے۔

انہوں نے کہا کہ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی نہ صرف شہریوں کا حق ہے بلکہ اس سے ایک عام آدمی کی زندگی پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ عدل و انصاف کے بغیر نہیں چل سکتا۔

معاشرے کے کمزور طبقات خصوصی طور پہ خواتین، بچوں اور غریب افراد کے حقوق کے حوالے سے قانون سازی مثلاً خواتین کو جائیداد میں انکے حق کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ضمن میں کی جانے والی قانون سازی پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض مقامات پر ابھی بھی خواتین کو ان کے قانونی حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے  کہا اس ضمن میں موجود قوانین اس لئے موثر ثابت نہیں ہو سکے کیونکہ ان پر عملدرامد کا طریق کار نہایت مشکل اور پیچیدہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اس عمل کو نہایت ہی آسان بنا رہی ہے تاکہ خواتین کو باآسانی ان کا حق میسر آسکے اور ریاست ان کا سہارا بنے۔

مقدمات کے ایک مقررہ مدت میں فیصلے اور تکمیل کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے کہا کہ متعلقہ قوانین میں ترمیم کرکے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ سالہا سال اور نسل در نسل چلنے والے مقدمات کا ایک مقررہ مدت میں فیصلہ ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر بھی انصاف نہ ملنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اس ضمن میں قانون سازی کر رہی ہے تاکہ جہاں نادار اور غریب افراد کو ریاست کی جانب سے قانونی معاونت فراہم کی جا سکے۔ کمزور لوگوں کو انصاف تک رسائی میں مدد فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

عمران خان نے کہا کہ  ہم ہر ممکن کوشش کرینگے کہ ان افراد کی ہر ممکن طریقے سے مدد کی جا سکے جو معمولی جرائم میں جرمانہ ادا نہ کرنے کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔

قومی دولت لوٹنے اور وائٹ کالر جرائم میں ملوث بااثر افراد کو جیلوں میں مراعات ملنے کی روش کی حوصلہ شکنی اور روک تھام کے حوالے سے کی جانے والی قانون سازی پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایک ہی نوعیت کے جرم میں ملوث امیر اور غریب افراد کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جانا عدل و انصاف کے اصولوں کی نفی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: میں بتاؤں گا ایل او سی پر کب جانا ہے، حکم کا انتظار کریں، عمران خان

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز