’نوازشریف صرف وقار کی بحالی چاہتے ہیں‘


اسلام آباد: پاکستان کے سینیئرصحافی محمد مالک کے مطابق نوازشریف نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ اپنا وقار بحال کرانا چاہتے ہیں اور اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ سے تصادم بھی نہیں کریں گے۔

ہم نیوز کے پروگرام’ بریکنگ پوائنٹ ود مالک‘ میں انہوں نے انکشاف کیا کہ شہباز شریف کے ساتھ آخری ملاقات میں سابق وزیراعظم نے صاف کہا کہ اگر ان کی بات پوری نہیں ہوتی تو وہ طبی بنیادیوں پر ضمانت بھی نہیں لیں گے۔

محمد مالک نے کہا کہ ہوسکتا ہے وقار بحال ہونے کے بعد نوازشریف مریم نواز کو بھی جاریح سیاست سے روک دیں۔

سینئر صحافی کاشف عباسی نے کہا پاکستان میں کچھ بھی ممکن ہے لیکن نوازشریف کا وقار بحال ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وقار بحال ہونے کا مطلب ہے تمام مقدمات ختم کرنا جو اتنی جلدی ممکن نہیں اور اگر ایسا ہو بھی گیا تو پھر ان عدالتوں کے وقار کا کیا ہوگا جنہوں نے فیصلے سنائے۔

کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ وقارعدالتی فیصلوں سے نہیں قول و فعل سے ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کبھی بھی اس پر رضامند نہیں ہوں گے۔

کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت انتظامی امور کا تجربہ نہیں رکھتی یہی وجہ ہے انہیں فیصلے واپس لینے پڑتے ہیں۔

کراچی میں پی ٹی آئی کے رہنما ایک بیان پر متفق نہیں تو وہ مسائل کیسے حل کریں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کےمعاملے پر کاشف عباسی نے کہا کہ اگر کچھ چیزیں ٹھیک ہو جاتیں تو تنقید نہ ہوتی لیکن یہاں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوا، صرف باتیں ہو رہی ہیں۔

سینئرصحافی اور تجزیہ کا ارشاد بھٹی نے کہا کہ نوازشریف اگر وقار کی بحالی چاہتے ہیں تو پھر ان باتوں کا کیا ہوگا جو انہوں نے کی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر سابق وزیراعظم کا وقار بحال ہوتا ہے تو پھر عدالتوں کے وقار کا کیا ہوگا جنہوں نے سزا سنائی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے سوال پر ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار نے کچھ لوگ رکھے ہوئے ہیں جو عمران خان کے سامنے ان کی تعریفیں  کرتے رہتے ہیں۔

صحافی وسیم بادامی نے کہا کہ اس ملک میں ویسے تو کچھ بھی ممکن ہے لیکن نوازشریف کا مطالبہ اتنی جلدی پورہ ہوتا نظر نہیں آرہا۔

کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی کی طرح آج بھی اس شہر پر سیاست ہوتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی جماعت شاید مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے لیکن منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔

کیا پیپلزپارٹی کو گرفتاریوں کا خطرہ ہے؟ اس سوال کے جواب میں سینیئر صحافی نے کہا کہ سندھ کی حکمراں جماعت کو خطرہ تو ہے لیکن مستقبل قریب میں مرادعلی شاہ کی گرفتاری ممکن نظر نہیں آتی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز