چار افراد کے قاتلوں کی اپیلیں خارج

کاروباری طبقے کو سہولتیں دی جائیں نہ کہ مشکلات پیدا کی جائیں۔ سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 4 افراد کے قتل اور 8 افراد کو زخمی کرنے والے سزا یافتہ مجرموں کی سزا کے خلاف بریت کیلئے دائر اپیلیں خارج کردیں۔

طاہر مقبول ،ذبیح اللہ ،ذوالفقار احمد ،سرفراز احمد اور مدثر سلطان نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ میں بریت کیلئے درخواستیں دائر کی تھیں۔

مجرمان نے سیالکوٹ کے علاقے سمبڑیال میں اندھا دھند فائرنگ کر کے  چار افراد کو قتل  اور آٹھ  افراد کو زخمی کیا تھا۔

سزا یافتہ مجرموں کی درخواستیں خارج کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعد کھوسہ نے کہا کہ دشمنی صرف ایک سے تھی لیکن چار افراد کو مار دیا گیا۔

جج نے کہا کہ مقتولین کی میڈیکل میں تاخیر ہوئی، گولیوں کے خول کو آ ٹھ ماہ بعد واپس بھجوایا گیا، ایسا لگتا ہے کہ ملزمان کو پکڑنے کے بعد خول بنائے گئے ۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے فوجداری مقدمات میں سزائے موت ختم کرنے کا عندیہ دے دیا

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقتولین ایک گراؤنڈ میں میچ دیکھ رہے تھے، حملہ آور مجرمان کے للکارنے سے گراؤنڈ میں بھگڈر مچ گئی، وہ سرور نامی شخص کو مارنے آئے تھے لیکن وہ بچ گیا۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ  واقع کے پانچ گواہان میں زخمی دو گواہ بھی شامل ہیں۔

اعلیٰ عدلیہ نے کہا کہ مجرمان کو ٹرائل کورٹ نے سزائے موت سنائی تھی۔ ہائیکورٹ  ان کے ساتھ  پہلے ہی نرم رویہ اپنا چکی ہے۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز