ماڈل صوفیہ مرزا کے خلاف منی لانڈرنگ کی درخواست دینے والا مدعی منظر عام سے غائب

لاہور:ماڈل صوفیہ مرزا منی لانڈرنگ کیس میں نیا موڑ آیاہے۔ معروف ماڈل کے خلاف منی لانڈرنگ کی درخواست دینے والا مدعی منظر عام سے غائب ہوگیاہے۔ 

ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کی ٹیم نے درخواست پر دیئےگئے پتہ پرسمن بھیجا لیکن وصول نہ ہوا بلکہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کو بتایا گیاہے کہ مدعی بلال درخواست پر دیئے گئے ایڈریس پر رہتا ہی نہیں ہے۔

ذرائع کےمطابق درخواست گزار کی جانب سے الزام علیہ صوفیا مرزا کے گھرکا پتہ بھی غلط دیا گیا۔ ایف آئی اے نےمدعی اورملزمان کوانکوائری میں بیان ریکارڈ کرانے کےلیے سمن بھیجے تھے۔

مدعی بلال کے منظر عام سے غائب ہونے پر معاملہ مشکوک ہوگیاہے۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر کو نیب کی جانب سے صوفیا مرزا کےخلاف درخواست موصول ہوئی تھی۔ نیب کو بلال نامی شہری نے صوفیا مرزا کےخلاف منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کی درخواست دی تھی۔

واضح رہے کہ  خوبرو ماڈل اور اداکارہ صوفیہ مرزا نے منی لانڈرنگ، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین الزامات کی سختی سے تردید کرچکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  نیب نے اور نہ ہی  وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ان الزامات کے حوالے سے ان سے کوئی پوچھ گچھ کی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام جھوٹی خبریں ان کے سابق شوہر  نے ان کے خلاف  پھیلائی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کو سابق شوہر انہیں بدنام کر کے بچوں کو اپنی تحریل میں اور اثاثوں پہ قبضہ کرنا  چاہتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی احتساب بیورو نے ایف آئی اے کو خط لکھا تھا کہ صوفیہ مرزا منی لانڈرنگ، اغوا برائے تاوان اور دیگر مبینہ جعل سازی کی  سرگرمیوں میں ملوث رہی ہیں اور انہیں گرفتار کیا جائے۔

صوفیہ مرزا نے کہا کہ ناروے میں رہائش پزیر ان کے سابق شوہر نے بچوں اور جائیداد پہ قبضہ کرنے کے لیے ان کے خلاف  یہ سارا جھوٹا پروپیگنڈا کیا ہے۔

’سسر ان لاء‘ سے شہرت پانے والی ماڈل اداکارہ  نے کہا کہ ان کے سابق شوہر نے ان کے خلاف جعلی خبریں پھیلانے کی شعوری کوشش کی۔

اس حوالے سے نیب حکام سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی لیکن وہ  رائے دینے کے لیے دستیاب نہیں ہوئے۔

دو سال قبل  صوفیہ مرزا   پر جعل سازی اور اغوا میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا الزام لگا۔ تاہم ان کے خلاف کوئی باقاعدہ مقدمہ درج نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی کیس چلا۔

سن 2015 میں سپر ماڈل ایان علی اسلام آباد ائر پورٹ پر 506,800 ڈالرمبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سمگل کرتے ہوئے پکڑی گئی تھیں۔

ایان علی کو عدالت سے سزا ہوئی اور جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی۔ حکومت نے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا، تاہم وہ  عدالت سے ضمانت کرواکر دوبئی چلی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے: ماڈل صوفیہ مرزا نے منی لانڈرنگ کے الزامات مسترد کر دیے

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز