’ن لیگ فضل الرحمان کو چھوڑ جائے گی‘


اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ہمایوں اختر خان  نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن آزادی مارچ کے دوران مولانافضل الرحمان کو راستے میں چھوڑ جائے گی۔

ہم نیوز کے پروگرام’ندیم ملک لائیو‘ میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آزادی مارچ کے لیے اپوزیشن میں اتحاد نہیں ہو پائےگا۔

فضل الرحمان حکومت کے لیے اس وقت اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہیں کیوں کہ پیپلزپارٹی پہلے ہی نکل چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مولانا اپنے مارچ کو کشمیر آزادی مارچ کا نام دے کر اس کا رخ موڑ دیں تو پی ٹی آئی بھی ان کے ساتھ مل جائے گی۔

پاکستان کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہر چیز سے مکمل آگاہ ہیں۔

ہمایوں خان کا کہنا تھا حفیظ شیخ کو وزیراعظم کا مکمل اعتماد حاصل ہے اور وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔ عمران خان ایک ٹیم کو آزماتے ہیں اگر کامیابی نہ ملے تو ٹیم بدل دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت کو معیشت مکمل تباہ حال میں ملی، حفیظ شیخ اچھا کام کر رہے ہیں۔ ہمایوں خان کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک ٹیم کو آزماتے ہیں اگر کارکردگی نہ ہو تو ہٹا دیتے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما پلوشہ خان جو آزادی مارچ میں مولانافضل الرحمان کے ساتھ نہیں نکلے گا اس کی سیاست ختم ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام سیاسی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے اور پیپلزپارٹی بھی آزادی مارچ کا حصہ بنے گی۔

معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔ کیا حکومت حالات سے آگاہ نہیں تھی، ان کو چاہیے تھا کہ عوام سب کچھ پہلے سے بتاتے۔

پلوشہ خان نے کہا کہ یہ ملک تجربات والی لیبارٹری نہیں ہے جہاں ناتجربہ کار لوگوں کو آزمایا جا رہا ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما عبد القادر بلوچ نے کہا کہ اس وقت عوام سیاسی قیادت کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اگر مولانافضل الرحمان نہ نکلے تو ن لیگ نکلے گی۔

انہوں نے کہا کہ شہبازشریف ڈی چوک میں مولانا کیساتھ بیٹھیں گے اور اس مارچ میں شرکت نہ کرنے کا مطلب سیاسی مستقبل تاریک کرنا ہوگا۔

ن لیگی رہنما نے کہ موجودہ حکومت کے پاس نہ اپنی ٹیم ہے اور نہ کوئی سمت، سارے لوگ پیپلزپارٹی اور ق لیگ سے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر رکھی ہے اور اس طرح بیرونی سرمایا کاری نہیں آتی۔

پاکستان کے سینیٗرصحافی ندیم ملک نے کہا کہ حکومت کے پاس خوشی منانے کےلیے ایک ہی بات ہے کہ درآمدات میں کمی کی گئی ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ وزیراعظم کے وزیرانہیں صحیح اعدادوشمار فراہم نہیں کرتے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز