مریم نواز ن لیگ کی نائب صدر برقرار، الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا

مریم نواز کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر فیصلہ آج سنایا جائے گا

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو پارٹی کی نائب صدارت کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست مسترد کر دی۔

چیف الیکشن کمشنرسردار محمد رضا  کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے مریم نواز کو پارٹی کی نائب صدارت کے عہدے سے ہٹانے کی پی ٹی آئی خواتین اراکین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

مریم نواز کے پارٹی عہدے کو تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی ملیکہ بخاری، کنول شوزب اور فرخ حبیب نے چیلنج کیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اگر پارٹی کے صدر کا عہدہ خالی ہوگا تو مریم نواز قائم مقام صدر کے طور پر اہل نہیں ہوں گی۔
مریم نواز کے وکیل بیرسٹر ظفراللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے اپنے دستور کے مطابق انہیں نائب صدر منتخب کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں، اگر فیصلہ ہمارے خلاف آتا تو اس کے دوررس نتائج ہوتے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ عہدہ ویسے بھی غیر فعال ہے، پارٹی صدر کے غیر موجودگی میں بھی مریم نواز کسی قسم کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتیں۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ روز چیف الیکشن کمشنرسردار محمد رضا  کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پرسماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل حسن مان  نے الیکشن کمیشن کو نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ واضح طور پر کہ چکی ہے کہ نااہل، سزا یافتہ شخص پارٹی صدارت نہیں رکھ سکتا۔ جس پر ممبر خیبر پختونخواہ ارشاد قیصرنے ریمارکس دیئے کہ عدالت کا فیصلہ الیکشن ایکٹ کے نافذ ہونے سے پہلے کا ہے جس میں نااہل سزا یافتہ شخص پر پارٹی صدارت یا عہدہ رکھنے کی ممانعت نہیں ہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن ایکٹ کی شق 203 کو آرٹیکل 62 ، 63 اور 63 اے کے ساتھ ملا کر پڑھنے کا کہا ہے، الیکشن ایکٹ کی شق 203 پارٹی عہدہ سے متعلق ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی سنٹرل پنجاب کے صدر رائے حسن نواز کو انہیں گراؤنڈز پر نااہل کرچکا ہے۔  مریم نواز سزا یافتہ ہیں پارٹی عہدہ رکھنے کےلئے اہل نہیں۔

اس موقع پرن لیگ کے صدر شہباز شریف کے وکیل جہانگیر جدون نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن ن لیگ انٹرا پارٹی الیکشن کیس میں درخواست گذار کا متاثر فریق نہ ہونے پر کیس خارج کرچکا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ اُس کیس میں پارٹی الیکشن،  یہاں عہدہ اور شخصیت چیلنج ہوئی ہے آپ کی یہ دلیل درست نہیں، کیا مریم نواز کے نائب صدارت کےعہدہ کے لئے الیکشن ہوا؟

جہانگیر جدون نے الیکشن کمیشن کو جواب میں کہا کہ مریم نواز کو تعینات کیا گیا ان کےعہدہ کے لئے کوئی انتخابات نہیں کئے گئے، ن لیگ کے آئین کے مطابق نائب صدر کے پاس کوئی اختیار نہیں صرف علامتی عہدہ ہے۔

انہوں نے مؤقف اپنایا کہ الیکشن ایکٹ میں سزا یافتہ شخص پر پارٹی عہدہ رکھنے کی کوئی پابندی نہیں، پرویز مشرف دور میں سزا یافتہ شخص پر پارٹی عہدہ رکھنے پر پابندی تھی۔ مریم نواز کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست ناقابل سماعت اور بدنیتی پر مشتمل ہے۔

انہوں نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن مریم نواز کے خلاف درخواست خارج کرے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز