عدالت نے خواجہ برادران کے جوڈیشل ریمانڈ میں 6 روز کی توسیع کردی

خواجہ برادران کیخلاف پیرا گون ہاؤسنگ سوسائٹی کیس کی سماعت آج ہو گی

فوٹو: فائل

لاہور: احتساب عدالت نے سابق وزیر ریلوے و رہنما مسلم لیگ ن خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کے جوڈیشل ریمانڈ میں 6 روز کی توسیع کرتے ہوئے انہیں 23 ستمبر کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

خواجہ برادران کو پیرا گون ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل کیس میں جوڈیشل ریمانڈ کے مکمل ہونے کے بعد احتساب عدالت میں جج جواد الحسن کے روبرو پیش کیا گیا۔

نیب کی طرف سے اسپیشل پراسکیوٹر علی سلطان ٹیپو پیش ہوئے جبکہ خواجہ سعد رفیق کی جانب سے اشتر اوصاف علی ایڈووکیٹ اور خواجہ سلمان رفیق کی طرف سے امجد پرویز ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

اس دوران نیب کے اسپیشل پراسکیوٹر نے خواجہ برادران کی بریت کی درخواست پر عدالت میں جواب داخل کرایا۔

اس موقع پر اشتر اوصاف علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت نے پراسکیوشن کو جواب کی ایڈوانس کاپی فراہم کرنے کا حکم دیا تھا مگر ہمیں فراہم نہیں کی گئی جس پر خواجہ برادران کے وکلاء کو نیب کے جواب کی کاپی فراہم کر دی گئی۔

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ نیب کو پیراگون ہائوسنگ سکیم کیخلاف تحقیقات کا اختیار نہیں تھا اور نہ ہی یہ عدالت اس کیس کی سماعت کر سکتی ہے، عدالت نے استفسار کیا کہ پیراگون پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کا کام کیا تھا؟

خواجہ برادران کے وکیل نے جواب دیا کہ پیراگون پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کا کام ہائوسنگ سوسائٹی کا قیام تھا اور یہ میمورنڈم میں بھی لکھا ہوا ہے۔

فاضل جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ انویسٹی گیشن تو کمپنی کیخلاف نہیں کی گئی بلکہ یہ افراد کیخلاف کی گئی ہے۔ ملزم  کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ  چیئرمین نیب نے قانون کے مطابق پیراگون ریفرنس میں اپنی رائے نہیں دی، کمپنیز ایکٹ 2017ء کے تحت عوام الناس کے ساتھ فراڈ کرنیوالی کمپنی کیخلاف تحقیقات کی جا سکتی ہیں۔

جج نے استفسار نے کیا کہ اس طرح کی صورتحال میں ٹرائل کا اختیار کس کو ہے؟  امجد پرویز ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ نیب کا قانون کہتا ہے کہ جتنا فائدہ حاصل کیا گیا ملزم کو اس کے برابر جرمانہ کیا جائے، کمپنیز ایکٹ میں عوام الناس سے فراڈ کرنیوالے ملزم کو تین گنا جرمانہ کرنے کا کہا گیا ہے۔

جج جواد الحسن نے کہا کہ یہ نکات آپ نے ملزموں کی ضمانت کیلئے درخواستوں پر اٹھائے تھے اور ہائیکورٹ نے انکو مسترد کیا تھا، اشتر اوصاف علی ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ وہ ضمانت کی درخواستیں تھیں۔

فاضل جج نے کہا کہ خواجہ برادران کی ہائیکورٹ میں ضمانت کی نہیں بلکہ آئینی درخواستیں تھیں، مان لیا کہ کمپنیز ایکٹ کی دفعہ 476 اور 496 کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے تو ٹرائل کہاں ہو گا اسکا؟

وکیل خواجہ برادران نے کہا کہ کمپنیز ایکٹ کے تحت سیشن جج ٹرائل کر سکتا ہے جس پرجج نے کہا کہ  اس کے فیصلے کے بعد یا تو سب کو فائدہ ہو جائے گا یا ہھر سب کا بیڑا غرق ہو جائے گا، کیونکہ یہ ایسے دلائل ہیں جن کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

بعد ازاں عدالت نے ملزموں کے وکلاء کے دلائل کے بعد سماعت 23 سمتبر تک ملتوی کر دی۔

گزشتہ پیشی میں عدالت نے سعد رفیق اور سلمان رفیق پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم انہوں نے صحت جرم سے انکار کر دیا تھا۔

خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق نے نیب کے دائرہ کار کو بھی چیلنج کیا اور درخواست میں موقف اپنایا کہ کمپنی سے متعلق کیس ہے، جو نیب کے دائرہ اختیار میں  ہی نہیں آتا۔

خواجہ برادران کی نیب کے دائرہ اختیار سے متعلق درخواست پر عدالت نے نیب حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تیرہ ستمبر کو جواب طلب کر لیا ۔

پیشی کے موقع پر خواجہ سعد رفیق نے میڈیا سے گفتگو میں حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا  کہ حکمران بتائیں کشمیر ایشو پر اب تک او آئی سی کا اجلاس کیوں نہیں بلایا گیا؟

سابق وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے عوام کے سوا دوسو ارب روپے کوذاتی پیسہ سمجھ کر معاف کر دیا جو پاکستان کے غریب عوام کے ساتھ سنگین مذاق ہے ظلم عظیم ہے۔

خواجہ برادران کو 11 دسمبر کو لاہور ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت منسوخ ہونے کے بعد نیب کی جانب سے گرفتار کیا گیا تھا۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز