جسٹس فائز عیسیٰ کے معاملے کا بینچ تحلیل

اسلام آباد: جسٹس فائز عیسیٰ کے معاملے کا بینچ تحلیل ہوگیا اور نیا بنچ بنانے کا معاملہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کو بھیج دیا گیا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا ہے کہ کچھ جج صاحبان بنچ میں بیٹھنا نہیں چاہتے، امید ہے جلد نیا بینچ تشکیل دیا جائے گا۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل کا عدالت عظمیٰ کے لارجر بینچ پر اعتراض مسترد کردیا تھا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ بتایا جائے کون سے عوامل سے جج کی جانبداری ثابت ہوتی ہے؟ اس عدالت کے کسی جج کی کسی مقدمے میں کوئی دلچسپی نہیں، ہر جج اپنی ذمہ داری آئین اور قانون کے مطابق ادا کرتا ہے۔

سپریم کورٹ میں جوڈیشل کونسل کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے ایڈووکیٹ منیر اے ملک عدالت میں پیش ہوئے اور بنچ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس بنچ میں کچھ ججز کو مقدمہ سننے سے انکار کر دینا چاہیے۔

عدالتی استفسار پر منیر اے ملک نے جواب دیا کہ جن ججز نے چیف جسٹس بننا ہے ان کی اس کیس میں دلچسپی ہے، اس بنچ کے دو ججز ممکنہ چیف جسٹس بنیں گے۔

جسٹس عمرعطاء بندیال نےریمارکس دیئے کہ کسی جج پر ذاتی اعتراض نہ اٹھائیں، کسی جج نے 2025 میں چیف جسٹس بننا ہے، کیا آپ چاہتے ہیں وہ مقدمہ سننے سے انکار کردیں؟

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز