’مریم نواز کو عہدہ رکھنے کی اجازت سے نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا‘

اسلام آباد: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے مریم نواز کو نائب صدر کا عہدہ رکھنے کی اجازت سے ملک میں نیا سیاسی تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔

پروگرام ویوزمیکرز میں میزبان زریاب عارف سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار عامر ضیاء نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں تضاد موجود ہے کہ وہ صدر نہیں بن سکتیں لیکن نائب صدر کا عہدہ رکھ سکتی ہیں جبکہ اس حوالے سے سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دے رکھا ہے کہ سزا یافتہ شخص عہدے کااہل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے قوانین کو ملک میں ایک بار ہی درست کرلینا چاہیے۔

تجزیہ کار رضا رومی نے کہا کہ ایک دوسرے کے خلاف درخواستیں دینا ہماری سیاست میں کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ مریم نواز سیاست میں اپنی جگہ بنا چکی ہیں لیکن الیکشن کمیشن کے فیصلے میں تضاد موجود ہے۔

تجزیہ کار فاروق عادل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ یہ انتظامی عہدہ نہیں ہے اس لیے اجازت دی جاسکتی ہے لیکن سیاست میں جو معاملات چل رہے ہیں ان کو مدنظر رکھا جائے تو اس سے تنازع پیدا نہیں ہوگا۔

سینیئر تجزیہ کار ناصر بیگ چغتائی کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں کے پاس عہدہ نہ بھی ہو تو ان کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے پر حکومت نے بھی کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ جائے گی۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ فیصلے متنازعہ اور مصلحت کے تحت ہوتے ہیں اس لیے نظام کی صفائی نہیں ہو پاتی۔ دنیا میں ایسے الزامات پر سخت سزائیں ہوتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں لیڈر بنا دیا جاتا ہے۔

سعودی تنصیبات پر حملے سے متعلق سوال کے جواب میں امجد شعیب نے کہا کہ اگر پاکستان کی سعودی عرب سے ترسیل متاثر ہوئی تو ہمارے لیے حالات بہت خراب ہوں گے۔

ناصربیگ چغتائی نے کہا کہ اس حوالے سے پاکستان اور بھارت کو بہت نقصان ہوگا کہ ہماری معیشت پہلے ہی دباؤ میں ہے۔

فاروق عادل کا کہنا تھا کہ اس کے اثرات صرف پاکستان پر نہیں بلکہ پورے خطے پر ہوں گے۔ہمیں اس وجہ سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کہ ہماری متبادل تیاری نہیں ہے۔

عامر ضیاء نے کہا کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چند دنوں میں یہ معاملہ ختم ہوجائے اور اگر ایسا نہ ہوا تو تجارتی خسارہ بھی بڑھے گا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اثرات عوام پر بھی پڑیں گے۔

رضا رومی کا کہنا تھا کہ پاکستان پر اس لیے زیادہ اثر پڑے گا کہ ہم تیل وہاں سے ہی لے رہے ہیں اور جب یہ قرض بڑھے گا تو عوام کے لیے مشکلات ہوں گی۔

امریکی صدر کے بیان سے متعلق سوال کے جواب میں رضا رومی نے کہا ماحول سخت ہے لیکن ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ پیشرفت ہوسکتی ہے کیونکہ مذاکرات کا آغاز ہی بڑا معاملہ ہوتا ہے۔

فاروق عادل نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کو چند کامیابیاں ملی ہیں لیکن ان سے بھارت پر زیادہ دباؤ نہیں آیا، ہمیں اس حوالے سے مزید سفارتکاری کو آگے بڑھانا ہوگا۔

ناصربیگ چغتائی نے کہا کہ جب تک ظلم ختم نہیں ہوگا تو ظالم سے ہاتھ ملانا اس میں توسیع کے برابر ہے، وزیراعظم کی اگر نریندرمودی سے ملاقات ہو بھی جائے تو پاکستان اپنے موقف سے دستبرار نہیں ہوسکتا ہے۔

امجد شعیب نے کہا کہ پاکستان کو امریکہ سے مثبت توقعات نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ اس کی پہلی ترجیح اپنا اور بھارت کے مفادات کا تحفظ ہے۔ دہشترگدی کے خلاف جنگ میں ہم نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں لیکن امریکہ نے انہیں تسلیم نہیں کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: مریم نواز کے فیصلے کے خلاف حکومت اپیل دائر کرے گی، فردوس عاشق

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز