قصور: چار میں سے تین گمشدہ بچوں کی لاشیں برآمد، زیادتی کا انکشاف

قصور: لاپتہ ہونے والے چار بچوں میں سے تین کی لاشیں برآمد

قصورکی تحصیل چونیاں سے لاپتہ ہونے والے چار بچوں میں سے تین کی لاشیں ویرانے سے برآمد کر لی گئیں ہیں جبکہ ایک بچہ تاحال لاپتہ ہے۔

ہم نیوز کے مطابق پولیس نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تینوں بچوں کو بری طرح زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا ہے۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کو قتل کرنے کے شبے میں پانچ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ہم نیوز نے 8 سالہ محمد فیضان کی پوسٹ ماٹم رپورٹ حا صل کر لی ہے جس کے مطابق اسے گلہ دبا کر قتل کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچے کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی موجود ہیں جبکہ اسے قتل کرنے کے بعد اونچائی سے پھینکا گیا ہے۔

آئی جی پنجاب عارف نواز نے تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ ادھرانجمن تاجران چونیاں نے آج کاروبار بند رکھنے کا اعلان کر دیا ۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے چونیاں میں معصوم بچوں کے قتل کے اندوہناک واقعہ پر دلی دکھ اوررنج کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غمزدہ خاندانوں کو انصاف دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے جسے ہر صورت نبھایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کی جلد سے جلد گرفتاری کیلئے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایات جاری کردی ہیں۔ اس کیس کو جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف نہ صرف ہوگا بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے گا۔

عثمان بزدار نے کہا کہ جن درندہ صفت ملزمان نے یہ ظلم کیا ہے وہ قانون کے مطابق قرار واقعی سزا سے نہیں بچ پائیں گے۔ ایسا گھناؤنا جرم کرنے والے انسان نہیں درندے اور دھرتی کا بوجھ ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ معصوم بچوں کے قتل پر ہر آنکھ اشکبار ہے، حکومت غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہے اور کھڑی رہے گی۔

قصور میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کئے جانے کا یہ پہلا واقع نہیں ہے، اس سے قبل گزشتہ سال اسی شہر سے سات سالہ زینب اچانک غائب ہوئی جو بعد ازاں اغواء کا واقعہ ثابت ہوا اور اس کی لاش گھر کے قریب واقع کچرا کنڈی سے ملی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے کیس کی تحقیقات کے لیے تفتیشی اداروں کو 72 گھنٹوں کی مہلت دی۔ پولیس نے ملزم عمران علی کی گرفتاری کا دعویٰ کیا۔ جس کی تصدیق اس وقت کے  وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی کی۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ملزم کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا جس نے زینب سمیت آٹھ بچیوں سے زیادتی کا اعتراف کیا۔

16 فروری 2018 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے زینب کے قاتل عمران علی کو چار بار سزائےموت کا حکم سنایا اور 17 اکتوبر 2018 کو اسے کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز