نیب نے مئیر کراچی کے مشیر لیاقت قائم خانی کو گرفتار کرلیا

میئر کراچی نے شہر کو آفت زدہ قرار دینے کا مطالبہ کردیا

میئر کراچی وسیم اختر—فائل فوٹو۔

کراچی: قومی احتساب بیورو(نیب )کراچی نے بلدیہ عظمی کراچی کے دفتر پر چھاپہ مار کر مشیر باغات کراچی میٹرو پولیٹن اتھارٹی (کے ایم سی )لیاقت قائم خانی کو حراست میں لے لیا ہے۔ 

نیب نے فریئر ہال میں کے ایم سی کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ نیب اہلکاروں نے بلدیہ عظمی کراچی کے مشیر باغات لیاقت قائم خانی کو حراست میں لے لیا۔ انہیں میئر کراچی وسیم اختر نے مشیر باغات تعینات کیا تھا۔

لیاقت قائم خانی کو ریٹائرمنٹ کے بعد کے ایم سی میں بطور مشیر رکھا گیا ہے۔

نیب ذرائع کے مطابق لیاقت قائم خانی پر باغ ابن قاسم کی تزئین و آرائش کے نام پر کروڑوں روپے کی غبن کا الزام ہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما خورشید شاہ کوبھی آج  گرفتار کرلیا ہے۔

ترجمان نیب کے مطابق خورشید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پی پی پی رہنما کو ریمانڈ کے لیے کل احتساب عدالت سکھر میں پیش کیا جائے گا۔

نیب ذرائع کے مطابق نیب سکھر نے اسلام آباد میں خورشید شاہ کو بنی گالہ میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ خورشید شاہ کے خلاف 7 اگست سے تحقیقات کا آغاز ہوا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ خورشید شاہ نے ہوٹل، پیٹرول پمپس اور بنگلے فرنٹ مین اور بے نامی داروں کے ناموں پر بنائے۔

ابتدائی تحقیقات میں یہ تمام الزامات ثابت ہوئے ہیں اور اس حوالے سے مزید تفتیش کی جائے گی۔

نیب سکھر نے آج خورشید شاہ کو خط لکھ کر طلب کر رکھا تھا تاہم انہوں نے جوابی خط میں میں پیش ہونے سے معذرت کی تھی۔

خط میں ملزم نے مؤقف اختیار کیا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے باعث پیش نہیں ہوسکتا۔

یہ بھی پڑھیے: نیب نے خورشید شاہ کو گرفتار کرلیا

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز