’مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کا حصہ نہیں بنیں گی‘

اسلام آباد: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مولانا فضل الرحمان کے حکومت مخالف احتجاج میں شامل نہیں ہوں گی۔

ہم نیوز کے پروگرام ویوزمیکرز میں میزبان زریاب عارف سے گفتگو کرتے ہوئے سینئیر تجزیہ کار عامر ضیاء نے کہا کہ پیپلزپارٹی واضح طورپر کہے چکی ہے کہ وہ سڑکوں پر احتجاج کا حصہ نہیں بنے گی جبکہ مسلم لیگ ن بھی کھل کر مولانا فضل الرحمان کا ساتھ نہیں دے گی۔

سینیئر تجزیہ کار ناصربیگ چغتائی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان جو بات کررہے ہیں وہ بڑی بات ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن حقیقت میں ان کا ساتھ نہیں دیں گی ورنہ وہ چند ہزار افراد کے ساتھ بھی اسلام آباد میں حکومت کے لیے مشکلات کھڑی کرسکتے ہیں۔

تجزیہ کار عمران یعقوب کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کو استعمال کرتے ہیں، اس وقت بھی دونوں کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں لیکن اس وقت مولانا فضل الرحمان ان سے فائدہ اٹھانے چاہتے ہیں۔ دونوں جماعتیں یہ بات جانتی ہیں کہ ان کے پاس سڑکوں پر لانے کے لیے لوگ نہیں ہیں۔

تجزیہ کار اطہرکاظمی کا کہنا تھا کہ مریم نواز شہباز شریف اور بلاول بھٹو جتنے اپنے والد کی مدد میں دلچسپی رکھتے ہیں اسی طرح مولانا فضل الرحمان بھی اقتدار کے علاوہ اسلام کی خدمت میں اتنی ہی دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ ساتھ نہیں چلیں گے کیونکہ سب کے مفادات الگ الگ ہیں۔

تجزیہ کار ائیرمارشل (ر) شاہدلطیف نے کہا کہ اپوزیشن کا متفقہ ایجنڈا نہیں ہے کیونکہ ان کے اندر بہت ساری تقسیم موجود ہے۔ اس الگ الگ ایجنڈے کے ساتھ ان کے لیے مشکل ہے کہ یہ مل کر حکومت مخالف تحریک شروع کرسکیں۔

بلاول بھٹو کے حکومت گرانے سے متعلق سوال کے جواب میں ناصربیگ چغتائی نے کہا کہ دونوں جماعتیں اس وقت انتظار میں ہیں کہ کوئی ماحول بدلے اور وہ حکومت کے خلاف کچھ کریں۔

عامر ضیاء نے کہا کہ سینیٹ میں اکثریت کے باوجود چیئرمین سینیٹ تبدیل نہ ہوسکنے کے بعد اپوزیشن میں اتحاد نہیں رہا ہے۔

عمران یعقوب نے کہا کہ بلاول بھٹو اس وقت حکومت کو ہٹانے یا گرانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ تبدیلی آسان کام نہیں ہے۔

اطہرکاظمی کا کہنا تھا کہ تحریک چلانے کے لیے کسی فلسفے کی ضرورت ہوتی ہے، یہ مفادات کی خاطر نہیں چلتیں۔

شاہد لطیف کا کہنا تھا کہ اپوزیشن میں اتحاد نہ ہونے کے باعث حکومت گرانا آسان نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دے کر انہیں فائدہ بھی نہیں پہنچانا چاہتی بلکہ ان کا مقصد اپنے مفادات کا زیادہ سے زیادہ تحفظ ہے۔

وزیراعظم عمران خان کے کشمیر مں جہاد سے متعلق سوال کے جواب میں شاہد لطیف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے جو کہا ہے اس میں وزن ہے، عالمی دنیا میں ہر ملک آج اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے، پاکستان کو بھی یہی چیز مدنظررکھنی چاہیے۔

عمران یعقوب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو صورتحال اس حوالے سے واضح نہیں ہے کہ وہ کبھی ایک اور کبھی دوسرا بیان دیتے ہیں۔

عامر ضیاء نے کہا کہ عمران خان پوری بات نہیں کرتے جس سے معاملات خراب ہوتے ہیں، ہماری اشرافیہ بھارت کے مقابلے میں پہلے ہی شکست تسلیم کرچکی ہے۔ کشمیریوں پر ظلم ہورہا ہے اور انہیں اس کی مزاحمت کا پورا حق ہے۔

ناصربیگ چغتائی نے کہا کہ وزیراعظم کے لیے بہتر ہے کہ وہ ایسے بیانات کے بجائے خاموشی اختیار کیے رکھیں کیونکہ اس سے ملک کے لیے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

اطہرکاظمی نے کہا کہ اگر اس وقت کشمیر میں ایسی کوئی حرکت ہوئی تو اس سے تحریک کو نقصان پہنچے گا، ایسی پالیسیوں سے کشمیر آزاد نہیں ہوگا اس کے لیے پاکستان کو عالمی سطح پر اپنا کیس لڑنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز