اقوام متحدہ میں قیام امن کے لیے علاقائی تعاون کا منصوبہ پیش کریں گے، ایران

اقوام متحدہ میں قیام امن کے لیے علاقائی تعاون کا منصوبہ پیش کریں گے، ایران

تہران: ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں قیام امن کے لیے علاقائی تعاون کا منصوبہ پیش کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خلیج میں غیر ملکی افواج کی موجودگی سے احساس عدم تحفظ پیدا ہوتا ہے۔

عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق سالانہ فوجی پریڈ کے موقع پر اپنی نشری تقریر میں ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ غیر ملکی افواج ہمارے عوام اور خطے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہیں۔

عراق میں ملیشیا پر نامعلوم ڈرون کا حملہ: ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی تعداد؟؟؟

انہوں نے اپنے خطاب میں خلیج میں موجود غیر ملکی افواج پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو ایرانی مفادات سے دور رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرغیرملکی افواج مخلص ہیں تو وہ علاقے کو ہتھیاروں کی دوڑ کا مرکز بنانے سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں آپ کی موجودگی ہمیشہ تکلیف، مشکلات اور آلام کا سبب بنتی ہے۔

ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے واضح طور پر کہا کہ آپ ہمارے علاقے سے جتنا دور رہیں گے اتنا ہی یہاں امن و سکون کا دور دورہ ہو گا۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ آنے والے دن میں ایران اقوام متحدہ میں قیام امن کا منصوبہ پیش کرنے جارہا ہے اوراس تاریخی موقع پرہم اپنے ہمسایوں کی جانب دوستی اور بھائی چارے کا ہاتھ بڑھاتے ہیں۔

ایران پر کسی بھی حملے کا مطلب کھلی جنگ ہو گی،جواد ظریف

صدر حسن روحانی نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ایران اقوام متحدہ میں قیام امن کا ایک منصوبہ پیش کرنے جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’اس حساس اور تاریخی لمحے پر ہم اپنے ہمسایوں کی جانب دوستی اور بھائی چارے کا ہاتھ بڑھاتے ہیں

سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کو ایک ہفتہ قبل میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں اس کی تیل کی پیداوار نصف رہ گئی ہے جو عالمی تیل منڈی کا چھ فیصد ہے۔ سعودی عرب میں تیل کی پیداوار متاثر ہونے سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

تیل تنصیبات پر حملے کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی تھی لیکن امریکہ نے ان کا دعویٰ ماننے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ ان حملوں میں براہ راست ایران ملوث ہے۔ اسرائیل نے ان حملوں کے حوالے سے کہا تھا کہ حملوں کے لیے عراق کی سرزمین استعمال کی گئی تھی۔

سعودی عرب اور روس کے درمیان تیل سے متعلقہ امور پر اتحادتشکیل پا ئے گا؟

ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے امریکی الزامات کو یکسر مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ایران پر حملے کے لیے جواز تلاش کررہا ہے۔

امریکہ کی جانب سے جمعہ کے دن یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ وہ مملکت سعودی عرب کی درخواست پر علاقے میں اپنی مزید افواج متعین کررہا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز