’مسئلہ کشمیر امریکہ کی مرضی سے حل ہوگا‘


اسلام آباد: ماہرین بین الاقوامی امور کے مطابق پاکستان چاہیے جتنی مرضی کوشش کر لے، مسئلہ کشمیر امریکہ کی مرضی کے بغیر حل نہیں ہوسکتا۔

ہم نیوز کے پروگرام’ بریکنگ پوائنٹ ود مالک‘ میں بات کرتے ہوئے بین الاقوامی امور کے ماہر ڈاکٹرعادل نجم کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ سے قرارداد پاس کرانا اتنا آسان نہیں جتنا نظر آتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سفارت کاری ایک بہت بڑا عمل ہے اور ہمارے پاس بھارت کی بجائے بہت کم دوست ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ27 ستمبر کو مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا، یہ مسئلہ کشمیریوں اور مودی نے دنیا کے سامنے اجاگر کیا ،اب پاکستان کا کام ہے کہ اسے زندہ رکھے۔

بین الاقوامی امور کے ماہر نے کہ پاکستان کی طرف سے شعبدے بازی والی سفارتکاری نہیں چلے گا، اگر ملالہ یوسفزائی ٹویٹ کرے اور دنیا کے رہنماؤں سے ملے تو اس کی بات سنی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی صورتحال ٹھیک نہیں ورنہ بلاول اور مریم نواز کو دنیا میں بھیجیں تو کچھ بات بن سکتی ہے۔

سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد خان کا کہنا تھا کہ دنیا میں کشمیر اور فلسطین کو مسائل میں نہیں گردانا جاتا، کشمیر کا فیصلہ بالآخر پاکستان اور بھارت ہی طے کریں گے لیکن بیرونی طاقتوں کے دباؤ سے۔

ان کا کہنا تھا کہ فیصلے نیویارک میں نہیں واشنگٹن میں ہوتے ہیں، اگر اقوام متحدہ میں قرارداد منظور ہوسکتی تو پاکستان کب کا کرواچکا ہوتا۔

سابق سیکرٹری نے کہا کہ اقوام متحدہ میں ہمارے چاہے جتنے بھی ووٹ ہوں امریکہ کی اجازت کے بغیرآپ کو ووٹ نہیں مل سکتا، جب تک امریکہ نہیں چاہے گا مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا۔

شمشاد خان کا کہنا تھا کہ مشرف اور واجپائی کی ملاقات بھی امریکہ نے کرائی تھی اور ایک بار اقوام متحدہ میں اسرائیل نے امریکہ کے کہنے پر پاکستان کو ووٹ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو پاکستان کے مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے کیوں کہ جب تک آپ اپنے کو درست سمت میں نہیں ڈالیں گے کوئی آپ کی مدد نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پہلی ترجیح آرٹیکل370 کی بحالی ہے اور دوسری یہ کہ دنیا کشمیر کو مسئلہ سمجھے۔

سابق سفیرغالب اقبال نے کہا کہ 5 اگست کے بعد پاکستان نے مضبوط بنیاد پر سست سفارتکاری کی، ہم عوامی سفارتکاری میں ناکام رہے اور دوست ممالک میں اپنے وفود نہیں بھیجے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بہت کچھ کیا ہے لیکن کوششیں مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سابق سفیر نے کہا کہ سفارت کاری میں خبروں سے تعلقات آگے نہیں بڑھتے آپ کو جاکر ملنا پڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز