فیاض چوہان کے بیٹے کے نمبرغیرقانونی طورپربڑھائے گئے،انکوائری رپورٹ

لاہور: پنجاب کے صوبائی وزیر فیاض چوہان کے بیٹے کے نمبرغیرقانونی طورپربڑھائے گئے،انکوائری رپورٹ انٹرمیڈیٹ وثانوی تعلیمی بورڈ راولپنڈی کو موصول ہوگئی ہے ۔ 

راولپنڈی بورڈ کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ فیاض چوہان کے بیٹے کے نمبر بڑھانے سے متعلق انکوائری رپورٹ پر سینیئرلیگل ایڈوائزر سے رائے طلب کی ہے،لیگل ایڈوائزرکی رائے ملتے ہی قانونی کارروائی کی جائے گی۔

انکوائری رپورٹ میں کہا گیاہے کہ صوبائی وزیرکے بیٹے کے فزکس پریکٹیکل کے نمبر 14 سے 30 کیے گئے،ہیڈ امتحانات ایسوسی ایٹ پروفیسرسلیم رمضان نے اختیارات سے تجاوز کیا اور نمبربڑھائے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ پریکٹیکل لینے والے سب ایگزامینرنے نمبروں کی تبدیلی سے اتفاق نہیں کیا مگر پھر بھی نمبر بڑھا دیے گئے ۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ پروفیسر سلیم رمضان کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی جائے۔ ہیڈ ایگزامینر کے خلاف ضابطےکی کارروائی کے لیے سیکریٹری ہائرایجوکیشن کو رپورٹ ارسال کردی گئی ہے۔

فیاض الحسن چوہان  کے بیٹے فہد حسن نے نجی کالج سے بارہویں کے پرچے دیئے اور اس  نے امتحانات میں 769 نمبر حاصل کیے ہیں۔

واضح رہے کہ راولپنڈی تعلیمی بورڈ نے12ستمبر کو اعلان کیا تھا کہ  پنجاب کے صوبائی وزیر  فیاض الحسن چوہان کے بیٹے کا نتیجہ روک لیاہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب کے سابق صوبائی وزیر اطلاعات اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیاض الحسن چوہان کے بیٹے فہد حسن کو فزکس پریکٹیکل میں مبینہ اضافی نمبر دیے گئے۔ جس کی وجہ سے فہد حسن کا نتیجہ روک لیا گیا ہے۔

ترجمان راولپنڈی بورڈ ارسلان چیمہ نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر لی، تاہم فیاض الحسن چوہان نے نتیجہ روکے جانے پر اپنا ویڈیو بیان جاری کر دیا۔

صوبائی وزیر کالونیز فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کی جائیں اور معاملہ سچ ہونے پر ذمہ داران کو سزا دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ میں حلفیہ کہتا ہوں میں نے کسی پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ڈالا جبکہ تعلیمی بورڈ کے کسی عہدیدار سے کبھی کوئی ملاقات تک نہیں کی تاہم راولپنڈی تعلمی بورڈ میں ایک مافیا ہے جو چیئرمین بورڈ کو بدنام کرنا چاہتا ہے۔

فیاض الحسن چوہان کے بیٹے کا نتیجہ روک لیا گیا

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز