خورشید شاہ کی گرفتاری پر کے پی اسمبلی میں ہنگامہ

خیبر پختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹیاں تحلیل کر دی گئیں

فوٹو: فائل

پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کا آج کا اجلاس مسلسل ہنگاموں کا شکار رہا۔ جہاں پہلے وقفہ سوالات کے معاملے پر اجلاس ملتوی کرنا پڑا تو وقفے کے بعد اپوزیشن رہنما خورشید شاہ کی گرفتاری پر حکومت اور اپوزیشن رکن آمنے سامنے آگئے۔ 

ایک گھنٹہ کی تاخیر سے شروع ہونے والے اجلاس میں اسپیکر مشتاق غنی نے تجویز پیش کی کہ آج اجلاس میں وقفہ سوالات کو ختم
کرکے عوامی مسائل پر بحث کی جائے۔

اسپیکر کے پی اسمبلی کی اس تجویز  پر اپوزیشن اراکین ناراض ہوکر احتجاج کرنے لگے۔ معاملے کو ختم کرنے کے لیے سپیکر اسمبلی نے وقفہ سوالات حذف کرتے ہوئے اجلاس کو دس منٹ کے لیے ملتوی کردیا۔

اپوزیشن لیڈر اکرم درانی نے خیبرپختونخوا اسمبلی اجلاس میں حکومتی اراکین اور وزراء کی اجلاس سے غیر حاضری کی نشاندہی کی تو اسپیکر مشتاق غنی برہم ہوگئے۔

اسپیکر نے صوبائی وزیر کو وزراء اور اراکین کی حاضری لینے کی رولنگ دیدی۔ اسپیکر کے پی اسمبلی نے یہ رولنگ بھی دی کہ آج کی حاضری وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلی محمود خان کو بجھوائی جائے۔

تاہم وقفے کے بعد شروع ہونے والا اجلاس ایک بار پھر ہنگامے کا شکار تب ہوا جب پیپلز پارٹی رکن نگہت اورکزئی نے خورشید شاہ کی گرفتاری پر احتجاج کیا جس کے جواب میں حکومتی اراکین نے جملے کسنا شروع کیے جس پر ایوان مچھلی  بازار بن گیا۔

ایوان میں صورتحال بگڑتی دیکھ  کر خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر مشتاق غنی نے اجلاس ملتوی کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: مانیکا فیملی کو پروٹوکول نہ دینے پر ڈی پی او کے تبادلے کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز