شہر قائد کے ساتھ معاشی دہشت گردی کی جارہی ہے، مئیر کراچی

میئر کراچی وسیم اختر—فائل فوٹو۔

کراچی: میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ شہر کے ساتھ معاشی دہشت گردی کی جارہی ہے۔ شہر کے منصوبوں میں وفاق سنجیدہ ہے نا سندھ حکومت ، صنعت کار بھی شہر کے مسائل پر آواز اٹھائیں۔

وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت میں خطاب کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ شہر کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ تاجر برادری شہر کے مسائل کے لئے سامنے آئے۔

وسیم اختر نے کہا کہا جاتا ہے کہ میں روتا رہتا ہوں ۔ لیکن کیا کروں میں ؟ مضبوط بلدیاتی نظام کے لئے آواز اٹھارہا ہوں۔

انہوں نے کہا وہ ملک بھر کے صحافیوں کو بلا کر دکھائیں گے کہ شہر کے فنڈز کے ساتھ کیا کیا جارہا ہے۔کراچی سرکلر ریلوے منصوبے کے لئے وفاقی اور سندھ حکومت دونوں سنجیدہ نہیں ہیں۔ یہ منصوبہ سی پیک میں بھی نہیں آرہا۔

میئر کراچی نے کہا کے ایم سی کے چودہ اسپتال ہیں  جہاں کے لئے مشینیں خریدنے کی خاطر ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ صنعت کار پیسے نہ دیں مشینیں خرید کے دے دیں۔

وسیم اختر نے کہا کہ کراچی میں روز سو سے ڈیڑھ سو افراد کتے کے کاٹنے (ڈاگ بائیٹ )سے متاثر ہورہے ہیں ۔ پورے صوبے میں کتے کے کاٹنے پر لگائی جانے والی  اینٹی ریبیز ویکسین نہیں ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر داور خان اچکزئی نے کہا کہ شہر کا انفراسٹرکچرتباہ ہوگیا ہے۔ پینے کا پانی ہے نہ سیوریج کا نظام، ٹرانسپورٹ کی صورتحال بھی ابتر ہے، ملک کے معاشی حب کو اس کا حق نہیں دیا جارہا ۔

یہ بھی پڑھیے: کچرا کہانی: 67 ہزار ٹن کچرا کہاں گیا؟ 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز