’ٹرمپ کی بھارتیوں سے دوستی کشمیریوں کے لیے خطرہ ہے‘

اسلام آباد: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کا بھارتی وزیراعظم کے جلسے میں شرکت کرکے بھارتی فوج کی تعریفیں کرنا پاکستان اورکشمیریوں کے لیے خطرہ ہے۔

ہم نیوز کے پروگرام ویوزمیکرز میں میزبان زریاب عارف سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار ناصربیگ چغتائی نے کہا کہ امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم نے جس طرح مل کر جلسے میں شرکت کی وہ ہمارے لیے پریشانی کا باعث ہونی چاہیے کیونکہ دونوں شراکت دار ہیں اور ان کے مفادات بھی یکساں ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر)امجدشعیب نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں لیکن اس کے باوجود امریکہ نے ہمیشہ بھارت کے مفادات کا تحفظ کیا ہے، امریکہ نے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے ملبہ پاکستان پر ڈالا ہے۔

تجزیہ کار رضا رومی نے کہا کہ پہلی بار کسی امریکی صدر نے کسی دوسرے ملک کے جلسے میں شرکت کی ہے۔ امریکہ اور بھارت کی مشترکہ پالیسی ہے جو ہمارے لیے پریشان کن ہونی چاہیے۔

عالمی امور کے ماہر ڈاکٹر رفعت حسین نے کہا کہ اگر مستقبل میں پاکستان کی سالمیت کو کسی کا خطرہ ہے تو وہ بھارت ہے اور اس معاملے میں امریکہ ان کے ساتھ ہوگا۔ جنوبی ایشیاء کے حوالے امریکی پالیسی بھارت نواز ہے۔

تجزیہ کارڈاکٹر ناظر محمود نے کہا کہ نریندرمودی کا جس طرح پس منظر ہے، پہلے اسے امریکہ نے قبول نہیں کیا تھا لیکن اب اپنا ساتھی بنا لیا ہے، اس وقت امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے مفادات مشترکہ ہیں اور وہ ہر معاملے پر متحد ہیں۔

حکومت مخالف آزادی مارچ سے متعلق سوال کے جواب میں ناصربیگ چغتائی نے کہا کہ پیپلزپارٹی بہت سوچ سمجھ کر گیم کھیل رہی ہے کہ اس سے مولانا فضل الرحمان کو فائدہ ہونے کے بجائے نقصان ہوگا۔

رضا رومی نے کہا کہ پیپلزپارٹی مشکلات کاشکار ہے اور وہ چاہتی ہے کسی طرح یہ کم ہوں اس لیے وہ کوئی ایسا کام نہیں کرنی چاہتی جس سے پورے نظام کو خطرہ ہو۔

ناظر محمود نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان پیپلزپارٹی کو قائل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے کیونکہ اپوزیشن کے اتحاد میں فیصلے بڑی جماعتوں نے کرنے ہیں۔

امجد شعیب نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی پہلے دن سے کوشش ہے کہ وہ حکومت کر گھر بھیجیں لیکن دوسری جماعتیں اس سوچ سے اتفاق نہیں کرتی ہیں اس لیے یہ لوگ مستقبل میں مزید متحد ہونے کے بجائے مزید تقسیم ہوں گے۔

ڈاکٹر رفعت حسین نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے یہ کہہ کر کہ احتجاج کسی ادارے کے خلاف نہیں ہے، کوشش کی ہے کہ ساری جماعتیں ان کا ساتھ دینے پر آمادہ ہوں لیکن مولانا حکومت گرانا چاہتے ہیں جس پر اس وقت دونوں بڑی جماعتیں راضی نہیں ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز