افغانستان: صدارتی انتخابی مہم اختتام پذیر: ہفتہ کے دن پولنگ ہوگی

افغانستان: صدارتی انتخابی مہم اختتام پذیر: ہفتہ کے دن پولنگ ہوگی

کابل: افغانستان میں ہفتہ کے دن ہونے والے صدارتی انتخابات سے دو دن قبل انتخابی مہم ختم کردی گئی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے جاری انتخابی مہم کا خاتمہ اس وقت ہوا ہے کہ جب پورے ملک میں تشدد و افراتفری کی کیفیت موجود ہے اور لوگوں میں کافی حد تک تشویش پائی جاتی ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران تشدد کے کئی بڑے حادثات و واقعات رونما ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بارود کی بو فضا میں رچی ہوئی ہے۔

 پر امن ہمسائے کے ویژن پر عملدرآمد کے لیے افغانستان میں امن ضروری ہے، عمران خان

افغانستان کے موجودہ صدر اشرف غنی اپنی دوسری مدت کے لیے انتخابی میدان میں ہیں۔ ان کی آئینی و قانونی مدت چند ماہ قبل مکمل ہوچکی ہے لیکن چونکہ انتخابات کا انعقاد نہیں ہوسکا تھا اس لیے سپریم کورٹ کے احکامات پر وہ بحیثیت صدر کام کررہے ہیں۔

اشرف غنی پر ان کے مخالفین نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی انتخابی مہم میں سرکاری وسائل کا بے دریغ اور غیر قانونی استعمال کررہے ہیں جب کہ موجودہ صدر نے عائد کردہ الزامات سے صاف انکار کیا ہے۔

اشرف غنی کے مدمقابل موجودہ چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ ہیں جو ان کے ساتھ گزشتہ پانچ سال سے شریک اقتدار ہیں جب کہ تیسرے امیدوار انجینئر گلبدین حکمتیار ہیں۔ انہوں نے موجودہ صدر کی جانب سے کی جانے والی امن سمجھوتے کی پیشکش قبول کی تھی۔ اشرف غنی کا انتخابی میدان میں مقابلہ کرنے کے لیے مزید امیدواران بھی ہیں۔

’امریکہ طالبان مذاکرات کی منسوخی سے افغانستان میں خانہ جنگی میں اضافہ ہوگا‘

عالمی خبررساں ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے انجینئر گلبدین حکمتیار نے خبردار کیا ہے کہ اگر انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے متنبیہ کیا کہ دھاندلی کی صورت میں حالات کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے۔

افغانستان کے صدارتی انتخابات کی اہمیت اس لحاظ سے بہت زیادہ ہے کہ اگراشرف غنی نے اس میں کامیابی حاصل کرلی تو پھر ان کی حکومت کو آئینی و قانونی حیثیت آئندہ پانچ سال کے لیے مل جائے گی جو آئندہ ہونے والے مذاکرات میں ان کی حیثیت کو بڑھا دے گی۔

افغانستان سے شکست خوردہ غیر ملکی عناصر نکل جائیں: ایران کا مشورہ

سیاسی مبصرین کے مطابق افغان طالبان کے نزدیک ان صدارتی انتخابات کی گوکہ کوئی حیثیت نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ جانتے ہیں کہ ووٹوں سے منتخب ہونے والوں کی کیا حیثیت ہوتی ہے؟ اور دنیا کس نظر سے دیکھتی ہے؟

سیاسی مبصرین کے مطابق صدارتی انتخابات کو پرامن بنانے کے لیے افغان سیکیورٹی فورسز کو کہیں زیادہ کوشش کرنی ہوگی اور آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بے پناہ چوکس رہنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز