’امریکہ کسی صورت بھارت پر دباؤ نہیں ڈالنا چاہتا‘


اسلام آباد: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ثالثی اور مذاکرات کی بات کرکے پاکستان کو خوش کرنا چاہتا ہے لیکن وہ بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

پروگرام ویوزمیکرز میں میزبان زریاب عارف سے گفتگو کرتے ہوئے سئینر تجزیہ کار عامر ضیاء نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کے دو طرفہ مذاکرات نیتجہ خیز ثابت نہیں ہوئے ہیں، ایسا چھوٹے معاملے پر بھی نہیں ہوسکا ہے جبکہ کشمیر تو سب سے بڑا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے ڈھٹائی اختیار کرلی ہے وہ کشمیرپر کسی صورت واپس ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔

بریگیڈئیر(ر) غضنفر علی نے کہا کہ امریکہ میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے حکومت پر معاملے میں مداخلت کے لیے دباؤ آیا ہے۔

امریکہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کریں لیکن یہ معاملہ اس طرح حل نہیں ہوسکتا ہے۔ امریکہ نے اب تک صرف تجویز دی ہے بھارت پر دباؤ نہیں ڈالا ہے۔

سئینر تجزیہ کارمجاہد بریلوی کا کہنا تھا کہ عمران خان کو ورثے میں ایسی پالیسی ملی جس میں حکمرانوں نے مفادات کے لیے سمجھوتے کیے۔ پاکستان کو امریکہ سے زیادہ توقعات نہیں رکھنی چاہیئں۔

تجزیہ کار ضیغم خان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سب کو خوش رکھنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ بھارت سے ثالثی دباؤ سے ہی منوائی جاسکتی ہے اور امریکہ اس کام کے لیے تیار نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کشمیر کا حل نہیں چاہتا بلکہ صرف خطے میں تناؤ میں کمی چاہتا ہے۔

نیب کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں مجاہد بریلوی کا کہنا تھا کہ ڈیل یا ڈھیل سے متعلق حتمی بات نہیں ہوسکتی لیکن نیب احتساب کرتا نظر نہیں آرہا ہے۔ نظام میں اصل مسئلہ نیب کے قوانین میں کمزوری ہے۔

عامر ضیاء کا کہنا تھا کہ عدالتوں کو اپنا کام کرنے دیا جائے اس حوالے سے محتاط ہو کر بات کرنی چاہیے

بریگیڈئیر(ر) غضنفر علی نے کہا کہ نیب کا کام تحقیقات کرکے ثبوت اکٹھے کرنا ہے لیکن نیب کو اس سلسلے میں ناکامی رہتی ہے۔ ایسے فیصلے کرنا عدالتوں کا اختیار ہے۔

ضیغم خان کا کہنا تھا کہ سزا سے پہلے حراست میں کم ہی رکھا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں دس دس سال بھی لوگ رکھے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک ڈیل یا ڈھیل نظر نہیں آرہی ہے۔

رضا رومی نے کہا کہ نیب کے تشدد سے بچنے کے لیے ریمانڈ ایک حد تک ہی دیا جاتا ہے۔ نیب کے طریقے کار کے حوالے سے کل بھی سوالات تھے اور آج بھی ہیں کہ اس سے کوئی نیتجہ نہیں نکلتا۔

تحریک انصاف کے پارٹی فنڈنگ کیس سے متعلق سوال کے جواب میں عامر ضیاء نے کہا کہ اس وقت اداروں اور تحریک انصاف حکومت میں کھینچاؤ موجود ہے جس کے نتائج سخت بھی ہوسکتے ہیں۔

رضا رومی نے کہا یہ سوال تو بنتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اتنا اہم کیس اتنے عرصہ کیوں دبائے رکھا اور اب اچانک نکال لیا ہے۔ حکومت کے لیے یہ ایک خطرناک کیس ہے۔

مجاہد بریلوی نے کہا کہ حکومت کے لیے یہ کوئی اتنا بڑا کیس نہیں ہے وہ اس کا سامنا بغیرکسی بڑی پریشانی کے کرلے گی۔

بریگیڈئیر(ر) غضنفر علی نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ اس کیس میں کیا نئے اہم شواہد آئے ہیں جس کی وجہ سے دوبارہ کیس سماعت کے لیے مقرر ہوا ہے، عمران خان کے لیے اکتوبر کا مہینہ مشکلات لیے ہوئے ہے۔

ضیغم خان نے کہا کہ فنڈنگ سے متعلق کیس کی پارٹی کا نام خراب ہوسکتا ہے اس لیے یہ اہم ہے۔ تحریک انصاف کو احساس ہے کہ یہ خطرناک ہے اسی لیے وہ کافی سالوں سے اس کا سامنا کرنے سے کترا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز