واٹس ایپ کی ایک نئی خامی سامنے آ گئی

سرکاری افسران کے واٹس ایپ استعمال پر پابندی کی تجویز

اسلام آباد: پیغام رسانی کی سب سے بڑی ایپلیکیشن واٹس ایپ میں ایک ایسا عیب کا پتہ چلا ہے جس کو استعمال کر کے ہیکرز صارفین کا ذاتی نوعیت کا ڈیٹا چرا سکتے ہیں۔

محقیقین نے اس عیب کو ’آواکینڈ‘ کا نام دیا ہے جو ایپلیکشن کے اندر ایک ڈبل فری بگ ہے اور اس میں موجود فری فری نامی فائل موبائل کی میموری کو کرپٹ کرتی ہے۔

فائل کو کرپٹ کرنے کے بعد یہ بگ ہیکرز کو صارف کے موبائل تک رسائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کر دیتا ہے جو صارف کا ڈیٹا با آسانی چرا سکتا ہے۔

ہیکر ایک جیف فائل کا استعمال کرتے ہیں اور صارف جب موبائل کی گیلری میں جا کر اس کو کھولتا ہے تو ہیکر اس کے ذریعے موبائل میں گھس جاتا ہے۔

اس بگ کی ذریعے ہیکر صارف کے پیغامات، ویڈیوز، آڈیوز اور دیگر فائل تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

رواں سال مئی کے مہینے میں فیس بک نے اس ضمن میں اپنے تمام صارفین کو خبردار کیا تھا، شروعات میں فیس بک کو یہ لگا کہ کوئی نجی یا حکومتی ادارہ وٹس ایپ کے اس عیب کا فائدہ اٹھا کر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صارفین کی نجی معلومات حاصل کر رہا ہے۔

خیال رہے پیغام رسانی کی اس مقبول ایپ کی کمزویوں سے ہیکرز گاہے بگاہے فائدہ اٹھانے کو کوشش میں لگے رہتے ہیں۔

پاکستان میں بھی واٹس ایپ کو ہیک کرنے کا نیا طریقہ استعمال کیا جا رہا ہے جس میں ہیکرز صارفین کو ٹیلی کمیونیکیشن حکام کا کہہ کر معلومات حاصل کرتے ہیں۔

صارفین کے موبائل پر ایک کوڈ بھیجا جاتا ہے اور بعد ازاں ٹیلی فون کال کرکے معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔

ہیکرز کے دھوکے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ واٹس ایپلی کیشن کی دو مراحل پر مشتمل سیکیورٹی کا آپشن استعمال کیا جائے۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز