سرکاری اشتہارات کیس،سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ جاری

اشتہارات پری پول دھاندلی کے مترادف ہیں


اسلام آباد: سرکاری اشتہارات پرسپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا گیا ہے۔ عدالت کی جانب سے تینوں صوبائی حکومتوں سے اشتہارات پراٹھنے والے اخراجات کی تفصیلات اور تین ماہ سے پیسے ادا کرنے والے سرکاری اداروں کے نام بھی طلب کرلیے گئے ہیں۔ جب کہ تمام چیف سیکرٹریز کو تفصیلات درست ہونے کے حلف نامے دینے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اشتہارات برسراقتدار جماعتوں کو انتخابات میں ناجائز فائدہ پہنچائیں گے۔ موجودہ حالات میں یہ پری پول دھاندلی کے مترادف ہیں۔

حکم نامے کے مطابق پنجاب، سندھ اور خیبر پختنونخوا (کے پی) حکومتیں خودنمائی پرمبنی اشتہارات چلا رہی ہیں۔ جاری اور مکمل شدہ منصوبوں کے اشتہار دیئے جا رہے ہیں۔ ان میں سیاسی رہنماؤں کی تصاویر بھی چلائی جاتی ہیں۔

حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فضول خرچوں کا بوجھ ٹیکس دینے والے عوام پر نہیں پڑنا چاہیے۔ اشتہارکاری سےعوام کا وہ پیسہ ضائع ہورہا جسے فلاحی منصوبوں پرخرچ کیا جاسکتا ہے۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق ازخودنوٹس کی سماعت 12 مارچ کو ہوگی۔

گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثارنے ریمارکس دیئے تھے کہ ”یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے۔ جسے اپنی تشہیر کے لیےاستعمال کیا جارہا ہے۔ کیا قانون عوام کے پیسے پر اپنی تشہیر کی اجازت دیتا ہے؟”


متعلقہ خبریں