مولانا فضل الرحمان کے حمایتی مدارس کی تفصیلات طلب

جے یو آئی کا انتظامیہ سے ہونے والا معاہدہ برقرار ہے، ترجمان فضل الرحمان

فائل فوٹو

اسلام آباد: وزارت داخلہ نے ملک کے چاروں صوبوں میں موجود ایسے مدارس کی تفصیلات طلب کرلی ہیں جو مولانا فضل الرحمان کے حمایت کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے والی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کی فہرستیں بھی طلب کی گئی ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ ان تنظیموں کے زیر انتظام جلنے والے مدارس، اساتذہ اور طلبا کی کوائف بھی مانگ لیے گئے ہیں۔

حساس ادارے نے حکومت کو ایک مراسلہ بھیج کر مطلع کیا ہے کہ ملک دشمن عناصر آزادی مارچ سے فائدہ اٹھا کر دہشت گردی پھیلا سکتے ہیں۔

یہ بھی جانیں: آزادی مارچ: ’فضل الرحمان اسلام آباد نہیں آرہے‘

مراسلے کے مطابق موجودہ ملکی صورتحال کے تناظر میں آزادی مارچ ملک کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے، آزادی مارچ میں مخصوص مکاتب فکر کے افراد ہوں گے اور اگر دہشت گردی کی کارروائی ہوئی تو مسلکی تصادم کا بھی خدشہ ہے۔

متن میں درج ہے کہ حکومت پاکستان آزادی مارچ کی کسی صورت اجازت نہ دے۔

مراسلہ وصول ہوتے ہی وزارت داخلہ نے چاروں صوبوں کے ہوم ڈیپارٹمنٹ سے اہم معلومات اکٹھا کرنا شروع کردی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم وطن واپسی پراہم اجلاس طلب کریں گے جس میں آزادی مارچ کو اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

قبل ازیں عمران خان آزادی مارچ کو مشروط اجازت دینے پر غور کررہے تھے تاہم موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم اداروں سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز