کے پی کی طرح دیگر حکومتیں بھی مفت انسولین فراہم کریں، وسیم اکرم

پشاور: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے ذیا بیطس (شوگر) کے مریضوں کو مفت انسولین فراہم کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ دیگر صوبائی حکومتیں بھی مریضوں کو مفت انسولین فراہم کریں گی۔

ہم نیوز کے مطابق پشاور آمد پر اظہار مسرت کرتے ہوئے سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے کہا کہ اس شہر سے میری بڑی یادیں وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نمک منڈی، کارخانو اور لنڈی کوتل بھی گیا ہوں۔

سری لنکن بورڈ کا وسیم اکرم کی خدمات حاصل کرنے میں دلچسپی کا اظہار

دنیائے کرکٹ میں اپنی باؤلنگ سے مخالف ٹیم کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کرنے کی شہرت رکھنے والے شہرہ آفاق کرکٹر نے کہا کہ 29 سال کی عمر میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہوا تھا جو میرے کیرئیر کا عروج تھا۔

انہوں نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ذیا بیطس کا مرض تشویشناک حد تک بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں مریضوں کو مفت انسولین کی فراہمی کے پی حکومت کا وہ کارنامہ ہے جس پر میں اسے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ذرائع ابلاغ کو مخاطب کرتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے کہا کہ بارش ہوتی ہے تو پاکستانی میڈیا سموسے پکوڑے دکھاتا ہے، اسے چاہیے کہ کبھی سبزی بھی دکھا دیا کرے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ٹوٹکوں سے ذیا بیطس کا مرض ختم نہیں ہوتا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ طرز زندگی (لائف اسٹائل) میں تبدیلی لائی جائے۔

وسیم اکرم کی اہلیہ نے کراچی کے ساحل کو عوام کیلئے بند کرنے کا مطالبہ کر دیا

ایک سوال کے جواب میں دنیائے کرکٹ کے عالمی شہرت یافتہ باؤلر اور کوچ وسیم اکرم نے کہا کہ مصباح الحق کی ٹیم سلیکشن (انتخاب) کا فیصلہ اچھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ ضرور مانتے ہیں کہ پاکستان ٹی 20 کی نمبر ون ٹیم ہے جب کہ سری لنکا کی ٹیم 8 نمبر پر آتی ہے۔

ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ اگر ٹی 20 میں نئے کھلاڑیوں کو موقع ملتا ہے تو تھوڑا انتظار کر لیں۔

متعلقہ خبریں