کراچی میں گٹکے نے جنگی حالات پیدا کردیے؟

کراچی میں گٹکے نے جنگی حالات پیدا کردیے؟

فائل فوٹو

کراچی: شہر قائد میں واقع جناح اسپتال کے کینسر وارڈ کے ڈاکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ سالانہ دس ہزار ایسے مریض وارڈ میں آتے ہیں جو منہ کے کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں۔ دس ہزار مریض صرف وہ ہیں جو جناح اسپتال کا رخ کرتے ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق ڈاکٹر نے یہ انکشاف سندھ ہائی کورٹ میں گٹکا بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی سے متعلق درخواست کی سماعت کے موقع پر عدالت عالیہ کو بتائی۔ زیرسماعت کیس میں سیکریٹری قانون سمیت دیگر شخصیا ت بھی پیش ہوئیں۔

ڈاکٹر کے انکشاف پرسماعت کرنے والی عدالت عالیہ نے کہا کہ ایک اسپتال میں منہ کے کینسر کی اتنی بڑی تعداد حیران کن ہے۔ اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ جنگی حالات نہیں ہیں؟

جسٹس صلاح الدین پنہور نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ یہ بھی تو دہشت گردی ہے جو انسانوں کی جان لے رہا ہے۔ انہوں نے ریمارکس میں دریافت کیا کہ کیا حکومت چاہتی ہے کہ ساری قوم کینسر کی مریض بن جائے؟

ہم نیوز کے مطابق صوبائی سیکریٹری قانون نے عدالت کے گوش گذارکیا کہ قانون سازی کے لیے بل کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ امید ہے ایک ہفتے میں بل منظور ہو جائے گا۔ انہوں نے عدالت کے روبرو مؤقف اپنایا کہ جو بھی گٹکا کھائے گا تو وہ ایک سے چھ سال کے لیے جیل جائے گا۔

جسٹس صلاح الدین نے اس پر ریمارکس دیے کہ آپ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے استفسار کیا کہ 15 روپے کا گٹکا خریدنے والا اور بنانے والا برابر کیسے ہو سکتا ہے؟

عدالت نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے دریافت کیا کہ کروڑوں روپے کمانے والے مینوفیکچررز کے لیے بھی تین سال کی سزا؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ گٹکا بنانے والوں کے لیے کم از کم عمر قید کی سزا ہونی چاہیے۔

فاضل جج نے دوران سماعت ریمارکس کے ذریعے معلوم کیا کہ آپ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ یہاں وزیر کو یا وزیر اعلیٰ کو بلایا جائے؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر ضرورت پڑی تو وزیر اعلیٰ کو بھی بلائیں گے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ گٹکے کی تیاری و فروخت میں پولیس اور اسمبلی میں بیٹھے لوگ بھی ملوث ہیں۔ عدالت کا استدلال تھا کہ ان کی ملی بھگت کے بغیر گٹکا فروخت نہیں ہو سکتا۔

دوران سماعت سندھ ہائی کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بڑے بڑے لوگ جو اسمبلیوں میں آتے ہیں وہ بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ پولیس کو معلوم ہوتا ہے کہ گٹکا کون اور کہاں بنا رہا ہے؟

ہم نیوز کے مطابق دوران سماعت ایڈیشنل آئی جی لیگل برانچ نے عدالت کو بتایا کہ آپ کے حکم کے بعد پانچ دنوں میں دفعہ 337-J کے تحت گیارہ مقدمات درج ہوئے ہیں۔ عدالت نے اس پر استفسار کیا کہ کتنے ایس ایس پیز کے خلاف کارروائی ہوئی ہے؟

عدالت عالیہ نے ریمارکس دیے کہ جب تک ان افسران کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق ایک موقع پر سندھ ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ گٹکا بنانے والوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی ہے، آئی جی کو کتنا شیئر ملتا ہے؟ عدالت عالیہ کا کہنا تھا کہ اگر آئی جی کو شیئر نہیں ملتا ہے تو کارروائی کیوں نہیں کرتے ہیں؟

سماعت کے دوران ایک موقع پرعدالت عالیہ سندھ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایس ایس پیز کے اثاثوں کی تحقیقات کرائیں سب پتا چل جائے گا۔ عدالت کا مؤقف تھا کہ ابھی معاملہ نیب اور ایف آئی اے کو بھیجتے ہیں۔

سماعت کرنے والی سندھ ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ پولیس افسران کے اثاثوں کی چھان بین ہونی چاہیے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ جو غریب افسران پڑھ  لکھ کر آتے ہیں وہ بھی بڑا بننے کے لیے وہی کام کرتے ہیں۔

ہم نیوز کے مطابق جسٹس صلاح الدین نے ریمارکس دیئے کہ جاگیرداروں کو بدنام کرتے ہیں لیکن اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی ذہنیت بھی وہی ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ پولیس لکھ کر دے کہ گٹکا فروشی میں دوسری قوتیں بھی ملوث ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ نے گٹکا بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاون کا حکم دیتے ہوئے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز