حکومت مشاورت کرے معیشت دو سال میں بہتر ہو جائے گی، تاجر رہنما

اسلام آباد: تاجر رہنما زبیر موتی والا نے کہا ہے کہ حکومت ہمارے ساتھ مشاورت کرے ملک کی معیشت دو سال میں بہتر ہو جائے گی کیونکہ معیشت کو بہتر کرنے کا حل ہمارے پاس موجود ہے۔

ہم نیوز کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے کہا کہ ہم کئی بار تاجروں کو مذاکرات کی میز پر لانےکی کوشش کر چکے ہیں ہم تاجر برادری کی ٹیکس کے حوالے سے دستاویزات مرتب کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاجر ٹیکس نہیں دیں گے تو یہ ملک آگے کیسے چلے گا۔ ہم ٹیکس کے سسٹم کو کمپیوٹرائزڈ کرنا چاہتے ہیں تاکہ ٹیکس حکومت تک پہنچے۔ ہم ٹیکس اپنی جیب میں نہیں ڈال رہے۔

عثمان ڈار نے کہا کہ حکومت میں جو چیزیں بہتر ہوئی ہیں اس پر میڈیا بات نہیں کرتا وہ صرف حکومت کی کمزوریوں پر ہی نظر رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاجروں کی آرمی چیف سے کوئی طے شدہ ملاقات نہیں ہوئی وہاں ایک سیمینار تھا جس میں تاجر شریک تھے اور آرمی چیف سے ملاقات ہوئی۔

عثمان ڈار نے کہا کہ ہم نے مظاہرین کے لیے پہلے سے ہی لنگر کھانے کھول لیے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں 31 لاکھ مظاہرین رجسٹرڈ ہو گئے ہیں پہلے وہ 31 لاکھ ووٹرز تو بنا لیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنما اویس لغاری نے کہا کہ اس حکومت میں ہر چیز ہی غلط ہو رہی ہے صرف تاجروں کا مسئلہ نہیں ہے، زراعت، صحت سمیت ہر شعبے میں ہی مسائل پیدا ہو گئے ہیں اور سب ہی پریشان ہیں۔ حکومتی اسٹرکچر تیزی سے نیچے کی جانب جا رہا ہے۔ اس ملک میں گورننس نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) تو کسی کو ساتھ لے کر چلنا ہی نہیں چاہتی۔ حکومت مکمل طور پر فیل ہو چکی ہے اور تاجر جی ایچ کیو میں اپنے مسائل لے کر جا چکے ہیں۔

اویس لغاری نے کہا کہ چین میں جتنے افراد کو بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا گیا اس کے لیے پورا نظام بنایا گیا اور معیشت کو خراب کیے بغیر بدعنوانی کے خلاف کارروائی کی گئی۔ چین نے شور نہیں مچایا بلکہ خاموشی سے کام کر کے دکھایا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جن رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا ہے ان کے خلاف تو ثبوت بھی سامنے نہیں آ رہے۔ وزیر اعظم کو چین میں کہنا چاہیے تھا کہ میں مخالفین کے 500 افراد کو اندر کروں گا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ اس وقت جس غلط طریقے سے احتساب کیا جا رہا ہے اس نے نیب کو ہی مشکوک کر دیا ہے۔ اب اگر نیب ٹھیک کام بھی کرے گا تو لوگ اسے غلط سمجھیں گے۔

اویس لغاری نے کہا کہ جمہوری احتجاج کب سے خودکشی کے مترادف ہو گیا ہے؟ ۔ ہم وہ کریں گے جو ملک کے لیے بہتر ہو گا۔ اگر دھرنے میں بیٹھنا بہتر ہوا تو ہم بیٹھیں گے۔ اس کا فیصلہ قیادت کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے جنوبی پنجاب کا بیڑا غرق کر دیا ہے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانا تھا اس کا سیکرٹریٹ بھی نہیں بنا سکے۔ جنوبی پنجاب کے لوگوں کے زخموں پر حکومت اب نمک چھڑک رہی ہے۔

مشعل کے سی ای او عامر جہانگیر نے کہا کہ حکومت کی نالائقی اپنی جگہ لیکن نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ کئی ایسے منصوبے ہیں جن کی طرف دیہان ہی نہیں دیا جا رہا۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کو التوا کرنے کی وجہ سے معیشت متاثر ہوئی ہے۔ اداروں کے آپس میں رابطے مضبوط ہونے چاہیئیں تاکہ نظام میں تیزی سے بہتری لائی جا سکے۔ اداروں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔

تاجر رہنما زبیر موتی والا نے کہا کہ موجودہ حکومت بھی یہ نہیں کہہ رہی کہ معیشت بہت مضبوط ہے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایسی پالیسی لا رہے ہیں جس سے معیشت بہتر ہو جائے گی۔ ہماری مارکیٹوں کا حال بہت خراب ہے۔ اتنی بری حالت پاکستان کی کبھی بھی نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کو ڈر ہے کہ سیلز ٹیکس کا ریفنڈ ہمیں نہیں ملے گا اور حکومت کو یہ عوام کو اعتماد دلانا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ کاروبار میں شناختی کارڈ کے مسئلے کو حکومت تاجروں کے ساتھ بیٹھ کر حل کرے معاملات ایسے نہیں چلیں گے۔

زبیر موتی والا نے کہا کہ آرمی چیف کو ہم نے مسائل بتائے تو انہوں نے کہا مجھے مارکیٹ کے بارے  میں سب معلوم ہے اور ان کے پاس تمام تفصیلات موجود تھیں۔ 17 فیصد سیلز ٹیکس کے ساتھ نہیں چلا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ نیب اگر بدعنوانی کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے تو اسے کرنا چاہے لیکن کاروباری معاملات میں مداخلت کرنا درست نہیں ہے۔ آرمی چیف نے ہمیں مسائل حل کرانے کی یقین دہانی کرائی اور اگلے ہی روز نیب چیئرمین نے پریس کانفرنس بھی کی۔

تاجر رہنما نے کہا کہ ہم تو چاہتے ہیں کرپشن کے پیسے واپس آئیں اور اس کے لیے نیب کو کام کرنا چاہے ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل میں 3 سے 4 فیصد سے زیادہ منافع نہیں ہوتا اس پر اگر آپ 17 فیصد کا سیلز ٹیکس لگا دیں گے تو ان کا کاروبار کیسے چلے گا۔ حکومت کو پوائنٹ آف سیل سے ٹیکس وصول کرنا چاہے۔ مینو فیکچر اور ایکسپورٹر کے پیچھے نہیں پڑنا چاہیے۔

زبیر موتی والا نے کہا کہ اگر ملک کی سیاست اسی طرح چلتی رہی تو اس ملک کا مستقبل انتہائی خطرناک ہو گا۔ عمران خان کو تاجروں کی جانب سے جو 6 پوائنٹس دیے گئے ہیں اس پر عمل کیا جائے تو 2 سال میں ہی معیشت درست ہونا شروع ہو جائے گی۔ حکومت ہمارے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات تو کرے ہمارے پاس حل موجود ہے۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز