سعودی عرب کے قریب ایرانی تیل بردار جہاز پر میزائلوں سے حملہ

دبئی: ایران کے سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ جدہ کی بندرگاہ کے قریب ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے جس سے اس میں آگ لگ گئی۔

ایرانی ٹیلی وژن نے نیشنل ایرانین نیشنل کمپنی کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکے کے باعث دو تیل بردار جہازوں کو آگ لگ گئی، میزائلوں کا نشانہ بننے والا جہاز جدہ سے 60 کلومیٹر بحیرہ احمر میں موجود تھا۔

ذرائع کے مطابق جہاز کو بھاری نقصان پہنچا اور اسے تیل بہنا شروع ہو گیا تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ایرانی نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ دونوں جہازوں کا عملہ محفوظ ہے۔

واقعے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں دو فیصد اضافہ ہو گیا ہے۔ برینٹ آئل کی قیمت 2.3 فیصد اضافے کے ساتھ 60.46 ڈالر ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ 14 ستمبر کو سعودی عرب کی آرامکو کمپنی کے تیل صاف کرنے والے پلانٹس پر ڈرون حملے ہوئے تھے جن کی ذمہ داری یمن میں موجود حوثی باغیوں نے قبول کی تاہم سعودی عرب نے اس کا الزام ایران ہر عائد کیا تھا۔

سعودی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ان حملوں میں 18 ڈرونز اور 7 کروز میزائل استعمال ہوئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کروز میزائلوں کا استعمال یہ ثابت کرتا ہے کہ حملے یمن کی سرزمین سے نہیں بلکہ شمال کی جانب سے کیے گئے ہیں اور انہیں ایران کی حمایت حاصل ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز