بلاول بھٹو سمیت پی پی کے اراکین اسملبی کو نوٹسز کا اجرا

لاڑکانہ: چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سمیت پارٹی کے دیگر کئی اراکین اسمبلی کو نوٹسز بھیجے گئے ہیں۔ نوٹسز انتخابات کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر بھیجے گئے ہیں۔

مولانا کی دہری پالیسی کا نوٹس لیا جائے: جیالوں کا بلاول بھٹو سے مطالبہ

17 اکتوبر2019 کو لاڑکانہ میں منعقد ہونے والے ضمنی انتخاب کے سلسلے میں پی پی پی کی جانب سے 12 اکتوبر کو ریلی نکالی گئی تھی۔

ضمنی انتخاب میں ڈسٹرکٹ رٹرنگ افسر کی ذمہ داری انجام دینے والے سید ندیم حیدرنے ہم نیوز سے بات چیت میں کہا کہ نوٹسز کے جوابات موصول ہونے کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ لاڑکانہ میں 17 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخاب کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ لاڑکانہ کی نشست پی ایس- 11 کے لیے 1 38 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جن میں 20 پولنگ اسٹیشنز کو انہتائی حساس، 50 کو حساس اور 68 کو نارمل قرار دیا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی نے مولانا فضل الرحمان سے جے یو آئی کی پوزیشن کلیئر کرنے کا مطالبہ کردیا

سید ندیم حیدر نے واضح کیا کہ تمام پولنگ اسٹیشنوں پر اندر اور باہر پاک فوج کے جوان تعینات ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 16 اکتوبر کو بیلٹ باکسز اوربیلٹ پیپرز سمیت دیگر تمام انتخابی سامان اورمتعلقہ عملہ تمام پولنگ اسٹیشنوں پہ رینجرز کی نگرانی میں بھجوایا جائے گا۔

لاڑکانہ پی ایس – 11 کی انتخابی نشست کے لیے رائے دہندگان (ووٹرز) کی کل رجسٹرڈ تعداد 152614 ہے۔ رائے دہندگان میں 83016 مرد ہیں جب کہ 69598  خواتین ہیں۔

ہم نیوز کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈسٹرکٹ رٹرنگ افسر سید ندیم حیدر نے کہا کہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری سمیت کسی بھی رکن قومی و صوبائی اسیمبلی نے تاحال بھیجے گئے نوٹسز کا جواب نہیں دیا ہے۔

 پی ایس 11 کے ضمنی انتخابات :پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر پاک فوج تعینات ہوگی

17 اکتوبر2019 کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے جمیل سومرو اور جی ڈی اے کی جانب سے معظم عباسی کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

یہ نشست جی ڈی اے کے معظم علی خان کی نااہلی کے باعث خالی قرار دی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز