’حکومت کے گھبرانے کا وقت قریب آرہا ہے‘

اسلام آباد: تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کو متحد کرلیا ہے اس لیے یہ بات حکومت کے لیے خطرے کی نشانی ہے۔

ہم نیوز کے پروگرام ویوزمیکرز میں میزبان زریاب عارف سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار ناصربیگ چغتائی کا کہنا تھا کہ اب حکومتی وزراء کی بھاگ دوڑ اور بیانات سے پریشانی ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہے۔ اپوزیشن کا یہ مارچ حکومتی اعصاب پر سوار ہوچکا ہے۔

تجزیہ کار مشرف زیدی نے کہا کہ وزراء کے دھرنے کے حوالے سے حکومتی بیانات سے لگتا ہے کہ انہیں اپنا دھرنا یاد آرہا ہے کہ کیسے وہ صرف مطالبات کیا کرتے تھے۔ اپوزیشن کی کوششیں اپنی جگہ لیکن حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر)امجدشعیب کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن میں مولانا فضل الرحمان کے مارچ کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں کہ ان کے اصل عزائم کیا ہیں۔ اس وقت دونوں جماعتیں آخری حدتک نہیں جانا چاہتیں جبکہ مولانا کا آغازبھی وہی ہے۔

تجزیہ کار رضا رومی نے کہا کہ احتجاج کے لیے منظم لوگوں کی ضرورت ہے جو اس وقت صرف مولانا فضل الرحمان کے پاس ہیں اور یہی بات دونوں جماعتوں کے لیے خطرے کی ہے۔

تجزیہ کار ضیغم خان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے سارا احتجاج اپنے ہاتھ میں کرلیا ہے جس کے بعد یہ دونوں جماعتیں ان کے پیچھے چلنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرویزمشرف کے دور کے بعد مولانا فضل الرحمان کو اب بہت اہمیت ملی ہے اور اس سے اپوزیشن کو نقصان اور حکومت کو فائدہ ہوگا۔

الیکشن کمیشن اور حکومتی تنازع سے متعلق سوال کے جواب میں رضا رومی نے کہا کہ پارٹی فنڈنگ کیس اتنا سنجیدہ ہے کہ اس سے تحریک انصاف کو بہت نقصان ہوسکتا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ الیکشن کمیشن کو غیرفعال کرکے معاملے کو لٹکائے۔

مشرف زیدی نے کہا کہ حکومت غیرفعال نہیں کرنا چاہتی لیکن حکومت اس وقت ہرادارے کے ساتھ الجھی ہوئی ہے جس سے ملکی معاملات چلانے میں بھی نقصان ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور حکومت کو اتفاق رائے پیدا کرنا نہیں آتا اور جب تک یہ نہیں سیکھیں گے ملک کا نقصان ہوتا رہے گا۔

امجد شعیب نے کہا کہ اگر تحریک انصاف ایسے فیصلوں سے بچنا چاہتی ہے تو وہ نہیں بچ سکے گی۔ حکومت کی اداروں کو اپنے مقاصد کے لیے غیرفعال کرنے کی کوششیں اپوزیشن کی موجودگی میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔

ناصربیگ چغتائی کا کہنا تھا کہ حکومت غیرفعال کرنا چاہتی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ معاملے کو لٹکایا جائے تاکہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر ریٹائرڈ ہوجائیں۔

ضیغم خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن دو ممبران کی غیر موجودگی سے غیرفعالیت کی طرف ہی جارہا ہے لیکن اس کے غیرفعال ہونے کا نقصان حکومت کو ہی ہوگا۔ ایک طرف اپوزیشن سیاست کرے گی تو دوسری طر ف اہم ملکی معاملات رک جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز