‘مولانا کو گرفتار کیا تو اسفندیار ولی قیادت کریں گے’

'آزادی مارچ استعفے کیلئے تھا ہی نہیں'

فوٹو: ہم نیوز

اسلام آباد: جمیعت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو گرفتار کیا گیا تو عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفندیار ولی آزادی مارچ کی قیادت کریں گے۔

ملک کے نامور صحافی حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ ایک مذہبی جماعت نے سیکولرپارٹی کو اپنا اتحادی بنا لیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان اور اسفندیار ولی کی ملاقات میں طے پایا ہے کہ پولیس نے جے یو آئی کے سربراہ کو گرفتار کیا تو آزادی مارچ کی قیادت عوامی نیشنل پارٹی کے صدر کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومتی وزیر مولانا کیساتھ مذاکرات ناکام بنا سکتے ہیں

ایک نجی ٹی وی شو میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ایک لبرل جماعت ہے اور ن لیگ کا جھکاو دائیں بازو کی جانب ہے لیکن یہ تمام پارٹیاں ایک مذہبی جماعت کی حمایت کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت تین چار ہفتے پہلے مذاکرات شروع کرنے چاہیے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا اور اب مولانا بات چیت کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔

حامد میر کے مطابق اب مولانا فضل الرحمان کے لیے پیچھے ہٹنا مشکل ہوگا کیوں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں، پہلے حکومت نے آزادی مارچ کو سنجیدہ نہیں لیا اور اگر اب گرفتاریوں سے مسئلہ کرنے کی کوشش کی حالات مزید خراب ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز