تاجر برادری حکومتی پالیسیوں سے مطمئن ہے، عبدالرزاق داؤد

اسلام آباد: مشیر تجارت عبدالزاق داؤد نے کہا ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور موجوہ حکومتی پالیسی سے تاجر برادری مطمئن ہے۔

ہم نیوز کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں بات کرتے ہوئے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ ہماری برآمدات کو جس رفتار سے بڑھانا چاہیے تھا اس طرح نہیں بڑھا۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے بھی برآمدات متاثر ہوئی ہے تاہم تعداد میں اضافہ سامنے آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کے معاملے پر حکومت کی سمیت بالکل درست ہے۔ ہماری گوشت کی برآمدات بڑھ کر 54 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ چاول کی برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔

عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ کاروباری حضرات حکومت کی پالیسی پر بالکل مطمئن ہیں۔ مانیٹری پالیسی اور ڈالر کی قیمت بڑھنے کی وجہ سے گاڑیوں کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی فروخت میں کمی آئی ہے۔ ایک سال بعد لوگ ہماری پالیسی کی تعریف کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ تمام معیشت دان ہماری پالیسی سے مطمئن ہیں اور وہ کہتے ہیں حکومت کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ ہم کاروباری حضرات کے مسائل کو کم کر رہے ہیں اور روپے میں آہستہ آہستہ استحکام آ رہا ہے۔

مشیر تجارت نے کہا کہ بنگلہ دیش کی معیشت ہم سے بہتر ہے کیونکہ انہوں نے 15 سال سے صرف اور صرف گارمنٹس پر توجہ دی ہے۔ چین کی بزنس انویسٹی گیشن ٹیم اس وقت پاکستان میں موجود ہے اور بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ای کامرس سے ہم بھرپور فائدہ اٹھائیں گے پہلے کوئی پالیسی نہیں تھی لیکن اب اس پر کام ہو رہا ہے۔ ای کامرس سے ہماری تجارت کو بہت فائدہ ہو گا۔ ہم نوجوانوں کو اکھٹا کر کے مسائل جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ اس وقت چین کے ساتھ سی پیک میں ہماری سب سے زیادہ توجہ ایم ایل ون کا منصوبہ ہے جس سے قوم کو بہت فائدہ پہنچے گا اور پاکستان کی معیشت میں بھی بہتری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جلد دو وفود سرمایہ کاری کے لیے آ رہے ہیں جس میں ایک وفد صرف گارمنٹس کے لیے آ رہا ہے جو ہمیں بہت زیادہ فائدہ دے گا۔

یہ بھی پڑھیں امید ہے مولانا فضل الرحمان مذاکرات کریں گے بھاگیں گے نہیں، وزیر دفاع

مشیر تجارت نے مزید کہا کہ آئندہ والے دنوں میں درآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا اور مجھے امید ہے پاکستان کی معیشت تیزی سے بہتری کی جانب جائے گی۔ آئی ایم ایف پاکستان کے معاملے پر پراعتماد ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاجر ٹیکس نہیں دیتے تھے جس کے لیے حکومت نے کوشش کی اور ڈاکیومنٹیشن کا کام کیا جس کی وجہ سے تاجر ناراض ہیں اور وہ ٹیکس سے جان چھڑانا چاہتے ہیں لیکن حکومت ٹیکس کے معاملے پر کوئی رعایت نہیں دے گی۔

متعلقہ خبریں