سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس،جے آئی ٹی سربراہ نےبیان ریکارڈکرادیا

سانحہ بلدیہ اور عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹس پبلک کرنے کا نوٹس جاری | humnews.pk

کراچی: سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں جے آئی ٹی سربراہ ایس پی ساجد سدوزئی نے اپنا بیان ریکارڈ کرادیا ہے ۔

ایس پی ساجد سدوزئی نے عدالتی بیان میں کہا کہ انتیس مارچ 2012 کوجےآئی ٹی اجلاس میں مجھےمعاملےکی دوبارہ تفتیشی دی گئی،معاملےکی دوبارہ جےآئی ٹی رضوان قریشی کےانکشافات کےبعد تشکیل دی گئی تھی۔

ساجدسدوزئی نے کہا دو اپریل 2015 جے آئی ٹی ممبران کے ہمراہ فیکٹری کا معائنہ کیا،جے آئی ٹی نے فیکٹری کے اکاوئنٹ مینجرعبدالحمید سےواقعے کی تفصیلات حاصل کیں۔

انہوں نے کہا عبد الحمید نے بتایا کہ وہ فائل لینے کی غرض سے فیکٹری کے گوادم میں آیا تھا،گودام میں آگ  کے شعلے دیکھے تو باہر نکل کر آگ کا شور مچایا، جوں جوں آگے بجھانے کی کوشش اس میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔

ایس ایس پی نے کہا عبد الحمید کے بیان سے رضوان قریشی کے بیان کو تقویت ملتی تھی۔

ساجد سدوزئی نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی ممبران نے انوسٹی گیشن کے حوالے سے 43 اجلاس کیے،ان اجلاسوں میں تفیشی افسر نے 42 گواہوں کے بیانات قلم بند کیے۔

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے جائے وقوعہ سے پنجاب فرانزک لیبارٹری و دیگر سے دوبارہ معائنہ کرایا،ماہرین نےفیکٹری کےمختلف حصوں کےسیمپل لئےاورآگ شارٹ سرکٹ سےلگنےکی تردیدکی۔

ایس ایس پی نے کہا گواہوں کےبیان اورشواہدکی روشنی میں تصدیق ہوئی کہ آگ زبیرچریااوراسکےساتھیوں نےلگائی تھی،ری انوسٹی گیشن کےبعدجےآئی ٹی ممبران اس نتیجےپرپہنچےکہ رحمان بھولا،حماد صدیقی نے فیکٹری مالکان سے25 کروڑروپے بھتہ مانگا تھا۔

ساجد سدوزئی نے کہا کہ فیکٹری مالکان سےفیکٹری میں حصہ داری بھی مانگی گئی تھی،فیکٹری مالکان ایک کروڑ روپے بھتہ دینے کوتیار تھے،فیکٹری مالکان کوسبق سکھانےکےلیےزبیر چریا اوراسکےچارساتھیوں نےآگ لگائی۔

ایس ایس پی نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے سینئیر ارکان نے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرکے اصل حقائق سے پردہ پوشی کی۔ ایم کیو ایم کے سینئیر ارکان نے واقعہ شارٹ سرکٹ انتظامیہ فیکٹری مالکان غفلت لاپرواہی کے باعث پیش آنا درج کرایا۔

بیان میں ساجدسدوزئی کے بیان کے مطابق  فیکٹری مالکان ، چوکیدار اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرادیاگیا۔ ایم کیو ایم نے واقعہ میں جاں بحق افراد کو ایم کیو ایم کارکنان بتا کر فیکٹری مالکان کا جینا دو بھر کردیا ۔

پولیس آفیسر نے اپنے بیان میں کہا کہ فیکٹری مالکان کو مختلف طریقوں سے ڈرا دھمکایا گیا تاکہ اصل حقائق پولیس کو نہ بتا سکیں،فیکٹری مالکان کو شوکت نے بتایا کہ علی حسن قادری سے ملوایا،علی حسن قادری نے بتایا کہ اسکا بڑا عمر حسن قادری کے ایم کیو ایم کے سنئیر رہنماء انیس قائمخانی سے تعلقات ہیں۔

بیان کے مطابق عمر حسن قادری نے فیکٹری مالکان کو بتایا کہ انیس قائمخانی سے مل کر معاملات طے کرادئیے گئے ۔ علی حسن قادری کے اکاوئنٹ میں فیکٹری مالکان نے پانچ کروڑ 98 لاکھ روپے جمع کرائے ،مذکورہ رقم متاثرین میں تقسیم کی جانی تھی۔

ایس ایس پی کےبیان کے مطابق معاملے کی دوبارہ تفتیش کے بعد سندھ حکومت کو بتایا کہ پہلا مقدمہ غلط درج کیا گیا تھا،اس لئے مقدمے کا دوبارہ اندراج کیا گیا۔

پولیس افسر کے مطابق ملزم زبیر چریا،رحمان بھولا چار دیگر ساتھیوں،عمر حسن،علی حسن،ڈاکٹر عبد الستار ،مسمات اقبال ادیب خانم کے خلاف درج کیا گیا۔ ملزمان کا نام ای سی ایل میں شامل اور پاسپورٹ منسوخ کرنے کا لیٹر لکھا گیا۔

سانحہ بلدیہ کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز