لاڑکانہ میں شکست کے بعد پیپلزپارٹی میں پھوٹ پڑ گئی

لاڑکانہ: سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں شکست کے بعد پیپلزپارٹی کی مقامی قیادت میں اختلاف سامنے آگئے ہیں۔

پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کو اپنے آبائی شہر لاڑکانہ کے ضمنی انتخاب میں پی پی امیدوار کی شکست پر کڑی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

نثار کھوڑو کے ترجمان شکیل میمن نے الزام لگایا کہ پیپلزپارٹی کا ایم پی اے ہونے کے باوجود انتظامی عہدوں پر تعیناتیاں کسی اور کے کہنے پر کی جاتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاڑکانہ میں پیپلزپارٹی کو شکست

شکیل میمن نے شکست کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ حلقہ کا ایم پی اے کوئی اور تھا  لیکن ڈی آئی جی، ایس ایس پی اور ڈی سی سمیت دیگر انتظامیہ کسی اور کے کہنے پر تعینات کی جاتی تھی

نثار کھوڑو کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جن کے کہنے پر لاڑکانہ کی انتظامیہ مقرر ہوتی تھی ان لوگوں سے سوال ہونا چاہیے کہ حلقے کا ایم پی اے کوئی اورتھا لیکن انتظامی کنٹرول کسی اور کے پاس کیوں تھا؟

خیال رہے کہ پیلزپارٹی کا گڑھ سمجھے جانے والے حلقے پی ایس 11 سے پیپلزپارٹی کے امیدوار کو شکست کے بعد بلاول بھٹو نے نتائج چیلنج کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے انتخابی امیدوار معظم عباسی نے ایک مرتبہ پھرغیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق  پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار کو شکست سے دی۔

ی ڈی اے کے انتخابی امیدوار کے مدمقابل پی پی کی جانب سے جمیل سومرو امیدوار تھے جو چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی سیکرٹری بھی ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز