’جمہوریت پر شب خون مارا گیا تو چار سے چھ سو لوگ اندر ہوں گے‘


لاہور: وزیرریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ اس بارجمہوریت کو شب خون لگا تو فیصلے جلد ہوں گے اور چار سے چھ سو لوگوں کو اندر کر دیا جائے گا۔

ذرائع ابلاغ سے گتفگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وقت بہت نازک ہے اور مولانا فضل الرحمان کا دھرنا بھی ابھی گرے لسٹ میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے ابھی تک دھرنے کی کوئی بات نہیں کی، میری درخواست تاخیر سے سنی گئی لیکن عمران خان نے کمیٹی بنا دی ہے کیوں کہ مذاکرات کے دروازے بند کرنا جمہوریت کےخلاف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جن کے اشاروں پر مولانا کھیلنے جارہے ہیں ان کی سیاست تباہ ہو جائے گی اور اگر سارے چودھری مر جائیں تب بھی مولانا کو اقتدار نہیں ملے گا۔

شیخ رشید نے کہا کہ سیاست کے لیے وقت بہت اہم ہوتا ہے، ایکسپریس ٹرین کبھی مسافر کا انتظار نہیں کرتی، سمجھانے کی بار بار کوشش کررہے ہیں، جب بھی علما نے تحریک چلائی ہے مارشل لا لگا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گوجرانوالہ، فیصل آباد اور لاہور اس ملک کا فیصلہ کرتے ہیں، سیاست دان عقل اور دانشمندی سے فیصلہ کریں۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ میں دینی طاقتوں کا ترجمان ہوں،  فضل الرحمان اور علما سے معاملات 21 سے 26 تک بہتر ہو‍جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نیشل ایکشن پلان ایکشن میں ہیں اور فضل الرحمان امن و امان کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت میں کشمیر کے بجائے مولانا فضل الرحمان کو کوریج دی جا رہی ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ نواز شریف اور آصف زرداری فضل الرحمان کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ ملک میں مارشل لا نہیں آنا چاہیے لیکن اگر آگیا تو کچھ نہی‍ں کرسکتا۔

مولانا کے دھرنے سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا  ابھی کوئی چیز حتمی نہیں، دھرنا دھندلا ہوا اور گرے لسٹ میں ہے البتہ 21 سے 26 کے درمیا سب معاملات فائنل ہوجائیں گے، ممکن ہے دھرنا نہ ہو، فیس سیونگ کا راستہ نکل آئے۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ وہ مشرف کی حکومت میں رہے ہیں اور سب جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ آج کے دشمن، کل کے دوست، کل کے دشمن آج کے دوست ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاسیت زور و شور پر ہے، جو ٹائم کشمیر کیلئے میڈیا کو دینا چاہیے تھا وہ اب دھرنے کو دیا جا رہا ہے۔

شیخ رشید نے کسی کا نام لیے بغیر کہا’یہ کہتے تھے کہ سارا وزیرستان اور سارا افغانستان میں ٹھیک کر کے دکھاؤں گا اللہ کا شکر ہے کہ یہ تو خودکش حملوں سے بچے لیکن وہ امریکہ کو یہ گولی بیچ رہے تھے‘۔

وزیر ریلوے نے کہا انہوں نے بے نظیر کو بھی سیاسی طور پر استعمال کیا تھا۔ مجھے مولانا فصل الرحمان سے زیادہ دینی مدرسوں اور علماء کی فکر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک این آر او کی مار ہیں لیکن عمران خان وہ دینے کے لئے کسی قیمت میں تیار نہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز