آزادی مارچ: مولانا فضل الرحمان کو نظر بند کرنے پر غور

مولانا فضل الرحمان بھی نیب کی نظر میں آگئے

اسلام آباد: آزادی مارچ کو روکنے کے لیے حکومت کی جانب سے مختلف آپشنز پر غور کیا جارہا ہے جن میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی نظربندی بھی شامل ہے۔

ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ مارچ کو روکنے کے لیے حکومتی حکمت عملی پر عملدرآمد شروع کردیا گیا جس کے تحت 27 اکتوبر سے اسلام اباد کی طرف آنے والے تمام راستے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ 27 اکتوبر سے موٹرویز اور جی ٹی روڈ بند کردیے جائیں گے۔

ادھر آزادی مارچ کی مہم چلانے والے کارکنوں کی گرفتاریاں بھی شروع کردی گئی ہیں۔

ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق دھرنا سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو نظر بند کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد سمیت مخلتف اضلاع میں گرفتاریوں اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس نے بھی دھرنے سے نمٹنے کیلئے تیاریاں مکمل کرلی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 27 اکتوبر سے قبل اسلام آباد کو مکمل بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے تمام داخلی راستے کنٹینرز لگا کر بند کئے جائیں گے جبکہ ریڈ زون مکمل سیل کرکے تمام داخلی اور خارجی راستے بند کردیے جائیں گے۔

ذرائع وزارت داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ریڈ زون کی سیکیورٹی رینجرز کے حوالے کرنے اور فوج طلب کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز