مولانا کو نظر بند کیا تو دما دم مست قلندر ہو گا، حافظ حمد اللہ

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمان کو نظر بند کیا گیا تو دما دم مست قلندر ہو گا۔

ہم نیوز کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں بات کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں کہا تھا ہم حزب اختلاف کو دھرنا دینے پر کھانا اور کنٹینر دیں گے لیکن یہاں تو ابھی سے ہی گرفتاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس دو راستے ہیں، یا تو حکومت ہمیں اسلام آباد آنے دے یا پھر اگر راستے بند کرتے ہیں تو پھر پورا ملک بند ہو گا اور یہ ہم نہیں کریں گے حکومت بند کرے گی۔

حافظ حمد اللہ نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کو نظر بند کر دیا گیا تو پھر سب دیکھیں گے کہ دمادم مست قلندر ہو گا۔ ہمارے کارکن ممی ڈیڈی لوگ نہیں ہیں اور نہ برگر کھانے کے عادی ہیں۔ ہم تین روز بغیر کھائے پیئے بھی گزارا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایک طرف تو مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دے رہی ہے اور دوسری طرف ان کے بیانات انتہائی خراب ہیں۔ مولانا فضل الرحمان جب کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے تو کشمیر کی یہ صورتحال نہیں تھی جو آج ہے۔

رہنما جے یو آئی ف نے کہا کہ حکومت بتائے انہوں نے 14 مہینوں میں عام آدمی کے لیے کیا کیا ؟ آج مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے۔ حکومت صفر پر آؤٹ ہو چکی ہے لیکن پھر بھی پچ پر موجود ہیں۔ اب کپتان کو گھر جانا ہو گا جنہوں نے یوٹرن لیتے ہوئے سینچری بنا لی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر تو او آئی سی ممالک نے بھی ووٹ نہیں دیا آپ کی سفارتکاری کو تو یہ حال ہے اور پھر وزیر اعظم دھڑلے سے عوام کے سامنے آکر جھوٹ بھی بولتے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی نواز اعوان نے کہا کہ ختم نبوت اور کشمیر کے معاملے پر وزیر اعظم نے عالمی سطح پر واضح آواز اٹھائی اور عالمی طاقتوں کو پیغام دیا ہے۔ اس لیے یہ مسائل تو نہیں ہیں اس پر حکومت کا مؤقف واضح ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان دھاندلی کا ایشو اٹھا رہے ہیں جس پر کمیٹی بن چکی ہے اب مولانا فضل الرحمان آکر حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کریں۔

رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان واضح پیغام لے کر اسلام آباد آئیں ہم نہیں روکیں گے۔ وہ مسلح جتھوں کے بغیر آئیں کوئی کچھ نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں تو حکومت میں آئے ابھی تو ایک سال ہی ہوا ہے اور جب ہمیں حکومت ملی تو 40 فیصد لوگ غربت سے بھی نیچے تھے۔ ہمیں تو ورثہ میں حکومت اتنی بری حالت میں ملی لیکن اس کے باوجود ہم تو ملک کو بہتری کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما ملک احمد خان نے کہا کہ مذہب کارڈ تو وزیر اعظم عمران خان خود بڑی بے دردی سے استعمال کر رہے ہیں اور جس کے آڑ میں اپنی غلطیوں کو چھپا رہے ہیں اور اگر وہ مدینہ کی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو ایک سال میں اس کے لیے عملی طور پر کیا کیا گیا ؟

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے حکومت گرانے کے لیے دھرنے کا راستہ دکھایا ہے۔ عمران خان نے نہ صرف دھرنے دیے بلکہ ان کی حکومت میں تو احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا۔

ملک احمد خان نے کہا کہ عمران خان کی حکومت دھرنے کے ذریعے ہی جائے گی وہ مولانا فضل الرحمان کو نظر بند کر کے بھی دیکھ لیں۔ یہ تو عالم دین کے خلاف ڈیزل ڈیزل کی آوازیں نکالتے ہیں جو انتہائی غیر اخلاقی رویہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں یہ ناجائز حکومت ہے اور یہ مکمل طور پر سیلیکٹڈ حکومت ہے۔ شہباز شریف اسلام آباد آئیں گے اور مارچ کے شرکا سے بھی خطاب کریں گے۔

رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ عمران خان اپنے دور حکومت کے پہلے سال کوئی اچھا کام تو کر کے دکھاتے۔ یہ کہتے ہیں ہم کرپشن کے خلاف کام کر رہے ہیں تو ہم نے انہیں خوش آمدید کہا لیکن یہ ابھی تک کرپشن ثابت ہی نہیں کر پا رہے۔ موجودہ حکومت نے پورے ملک کو ساقط کر کے رکھ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں مولانا کو گرفتار کیا گیا تو حالات حکومت کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے، اسفندیارولی خان

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے کہا کہ ہم نے پہلے روز ہی اعلان کر دیا تھا کہ ہم کسی دھرنے کا حصہ نہیں بنیں گے جبکہ حزب اختلاف اس پر متفق ہے کہ موجودہ خراب معاشی صورتحال پہلے کبھی بھی نہیں رہی اور ہم سمجھتے ہیں دھرنا معیشت کو مزید نقصان پہنچائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت حزب اختلاف ایک پیج پر ہے اور نااہل لوگ ہم پر مسلط کر دیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم کا دورہ سندھ نے یہ بات واضح کر دی کہ ان کا صوبے کے ساتھ کیا رویہ ہے۔ وزیر اعظم شام کو تھوڑا سا وقت نکال کر آئین پڑھ لیا کریں۔

یہ بھی پڑھیں قوم 27 اکتوبر کو یوم سیاہ منائے گی

رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کوئی جرم نہیں کیا اور انہوں نے ابھی صرف مطالبہ کیا ہے۔ حکومت اس وقت خود اپنے آپ کو بند گلی میں بند کر رہی ہے۔ انہوں نے تو جڑواں شہروں میں دھرنے کے شرکا کو ٹینٹ اور کھانے کی سروس دینے والوں پر بھی پابندی لگا دی ہے۔

شہلا رضا نے کہا کہ تحریک انصاف کے لوگ اپنی نالائقیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ماضی میں چلے جاتے ہیں۔ ہمیں تو یہ بتایا جائے کہ جیل میں اس وقت کون سا سیاسی رہنما سزا یافتہ ہے ؟ ان کو تو یہ ہی نہیں معلوم پارلیمنٹ کیا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب عمران نیازی وزیر اعظم بن سکتے ہیں تو مولانا فضل الرحمان کیا کوئی بھی وزیر اعظم بن سکتا ہے۔

ندیم ملک نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ حزب اختلاف پر ہو تو حکومت چلی جاتی ہے ورنہ عمران خان کی طرح 126 روز کا دھرنا دینے کا بھی فائدہ نہیں ہوتا۔

متعلقہ خبریں