آزادی مارچ میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی، رہبر کمیٹی کا انتباہ

نیب کی اکرم خان درانی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش

فوٹو: فائل

اسلام آباد: حزب اختلاف کی  9 جماعتوں پر مشتمل رہبر کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ آزادی مارچ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ کمیٹی نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ آزادی مارچ کے حوالے سے کوئی بھی جماعت انفرادی سطح پر فیصلہ نہیں کرے گی۔

حکومت سے مذاکرات: جے یو آئی کے بعد اے این پی نے بھی انکار کردیا

ہم نیوز کے مطابق رہبر کمیٹی نے یہ فیصلہ جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے رہنما اور کمیٹی کنوینر اکرم خان درانی کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں کیا گیا جس میں ملکی صورتحال اور حکومت سے مذاکرات کے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔

رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کنوینر اکرم خان درانی نے کہا کہ حکومتی کمیٹی رابطہ کرے تو کسی پارٹی سے انفرادی رابطہ نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ رابطے کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے لیکن حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی سنجیدگی کا واضح ثبوت وزیراعظم کے بیانات ہیں جن میں وہ ایک طرف کمیٹی بناتے ہیں اور پھر برے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اکرم خان درانی نے واضح کیا کہ آزادی مارچ کے انعقاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پر امن احتجاج آئینی و قانونی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ  یقین دلاتے ہیں کہ ہمارا مارچ پر امن ہو گا لہذا حکومت ہمارے مارچ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔

جماعت اسلامی نے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کی اخلاقی حمایت کا اعلان کردیا

رہبر کمیٹی نے خبردار کیا کہ انتظامیہ کی جانب سے آزادی مارچ میں کسی بھی قسم کی مزاحمت برداشت نہیں کی جائے گی۔

لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اکرم خان درانی نے کہا کہ کسی کو ملک کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ہم یکسو ہیں۔

سابق وزیراعلیٰ کے پی نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان یونیورسٹی اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنایا جائے۔

جمعیت العلمائے اسلام (ف) نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کررکھا ہے جو ملک کے مختلف شہروں اور علاقوں سے بیک وقت شروع ہوگا اور طے شدہ پروگرام کے تحت 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوگا۔

جے یو آئی ف کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کالعدم قرار

امیر جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان کو پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اورجمعیت العلمائے پاکستان سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے آزادی مارچ کے حوالے سے اپنی حمایت کی یقین دہانی کرارکھی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز