حقوق مانگ کر نہیں لڑ کر لیے جاتے ہیں، حسین نواز

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا ہے کہ آزادی اور حقوق مانگنے سے نہیں ملتے لڑ کر لیے جاتے ہیں۔

ہم نیوز کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں بات کرتے ہوئے حسین نواز شریف نے کہا کہ میرے والد نواز شریف کو اللہ تعالیٰ نے نئی زندگی عطا فرمائی ہے اور اس وقت وہ دو میگا پلیٹلٹس لگانے کے بعد خطرے کی حالت سے باہر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی پلیٹلٹس کیوں کم ہوئی اس کے بارے میں تو ڈاکٹرز ہی بہتر بتائیں گے لیکن انہیں ڈینگی نہیں ہے۔ نیب ترجمان کہتے ہیں کہ دوائی کے اثرات ہیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہے کیونکہ میڈیکل بورڈ کی جانب سے ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔

حسین نواز شریف نے کہا کہ میں نے گزشتہ روز خدشات کا اظہار کیا تھا کہ نواز شریف کو زہر دیا گیا ہے اور یہ پاکستان کی تاریخ ہے کہ حکرانوں کو راستے سے ہٹانے کے لیے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو پہلے ہی قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے جبکہ ڈاکٹر عدنان نے پہلے بھی درخواست کی تھی کہ وہ اپنے مریض سے ملنا چاہتے ہیں جس کے بعد انہیں ملنے دیا گیا اور اس کے بعد معلوم ہوا کہ نواز شریف کی طبیعت انتہائی خراب ہے۔

نواز شریف کے بیٹے نے کہا کہ کوٹ لکھپت جیل میں کوئی سیکیورٹی خدشہ نہیں تھا اور وہاں بھی تحقیقات ہو سکتی تھیں۔ اس سے قبل بھی نیب کے اہلکار کوٹ لکھپت جیل میں آکر تحقیقات کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی صحت کے بارے میں ہمیں نہیں بتایا جا رہا، جناح اسپتال سے ڈاکٹرز کی ٹیم چیک اپ کے لیے گئی تھی لیکن کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی اور نہ ہی اہلخانہ کو بتایا گیا کہ مریم نواز کو کیا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں حکومت احتساب نہیں سیاسی انتقام لے رہی ہے، رہنما مسلم لیگ ن

حسین نواز نے کہا کہ ہمارے ملک میں ہر چیز کو سیاست کی نظر کر دیا جاتا ہے اور بیماری کے ساتھ مذاق کیا جاتا ہے اس لیے نواز شریف اسپتال جانا نہیں چاہتے تھے اور اپنے معالج کو ہی دکھانے پر بضد تھے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے ڈاکٹرز کو نواز شریف کی ہسٹری کے بارے میں معلوم ہے کیونکہ وہ وہیں اپنا چیک اپ کراتے رہے ہیں اور نواز شریف کو کسی اچھے اور قابل ڈاکٹر کو ہی دکھانا چاہیے۔

حسین نواز نے کہا کہ پارٹی اس بات پر متفق ہے کہ نواز شریف جو فیصلہ کریں گے اسی پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ ہماری ریاست پولیس اسٹیٹ میں تبدیل ہو گئی ہے اور میڈیا کی آواز بھی دبائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جب بھی اداروں کے ذریعے آئین و قانون کے خلاف کام لیے گئے اس سے اداروں کو نقصان ہی پہنچا ہے۔ آزادی اور حقوق مانگنے سے نہیں ملتے بلکہ لڑ کر لیے جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں