آٹھ  نئے آرڈی ننسز کی منظوری کے خلاف سینیٹ سیکریٹریٹ میں قرار داد جمع

آٹھ  نئے آرڈی ننسز کی منظوری کے خلاف سینیٹ سیکریٹریٹ میں قرار داد جمع

فوٹو: فائل

اسلام آباد: جماعت اسلامی نے آٹھ  نئے آرڈی ننسز کی منظوری کے خلاف سینیٹ سیکریٹریٹ میں قرار داد جمع کرا دی ہے۔ سینیٹ سیکریٹریٹ میں قرارداد امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔

وفاقی کابینہ نے 6 نئے قوانین آرڈیننس کے ذریعے نافذ کرنے کی منظوری دیدی

ہم نیوز کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے جمع کرائی گئی قرار داد میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آرڈی ننسز کی کابینہ سے منظوری آئین سے انحراف کے مترادف ہے۔

سینیٹر سراج الحق نے سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا ہے کہ آرڈی ننسز کے ذریعے قانون سازی پارلیمنٹ کے مینڈیٹ کی توہین کے مترادف ہے۔

سی پیک اتھارٹی کا قیام کا عمل میں آگیا، صدر نے آرڈیننس پر دستخط کردیے

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے اپنی قرار داد میں حکومت پر زور دیا ہے کہ آرڈی ننسز کیے بجائے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کی جائے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے منعقدہ اجلاس میں بھی چھ نئے قوانین آرڈی ننسز کے ذریعے نافذ کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ جن قوانین کی منظوری دی گئی تھی ان میں نیب ترمیمی آرڈی ننس اور بے نامی ٹرانزیکشن ایکٹ 2017 کا ترمیمی آرڈیننس بھی شامل تھے۔

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی تحلیل سے متعلق جاری آرڈیننس کی تفصیلات

وفاقی کابینہ کی طرف سے خواتین کو وراثت کے حقوق فراہم کرنے اور لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی کے قیام کے آرڈیننس کی منظوری کے علاوہ وراثتی سرٹیفیکیٹ اور اعلیٰ عدالتوں کے کوڈ آف کنڈکٹ کے آرڈیننسز کی بھی منظوری ہوئی تھی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز